JHEEL MAY SITARAY جھیل میں ستارے
مختارجاویدکی ’’جھیل میں ستارے‘‘
ایک عہد ساز تخلیق کار کی شاعرانہ تنک تابیوں کا سفر
میرے اندر ایک ہنستا بستا پر سکون، شاداب اور معطر شہر تھا جو کہیں کھو گیا ہے۔ اسی کی لکھوری اینٹوں پر پڑنے والی بارش کی بوندوں کی سوندھی پھوار مجھے مضطرب رکھتی ہے۔ میں ان خستہ در وبام سے پہروں گفتگو کرتا ہوں جو شہر جدید کے گرد و غبار میں اَٹ کر ناآشنا آنکھوں سے اپنی تاریخ سمیٹ کر رخصت ہو چکی ہیں۔ مجھے بھر بھری اینٹوں والی خالی، دھنٹار، اداس برجیاں اور ان پر سر نیہوڑائے بیٹھی ہوئی چیلیں اور کبوتر اُن زمانوں میں لے جاتے ہیں جب شہروں کی سڑکیں دل کی گلیوں کی طرح کشادہ تھیں اور چوڑی ہموار سڑکوں پر تانگے ٹخ ٹخاتے تھے، گھوڑے ہنہناتے تھے اور گلیوں کے کھمبوںکے چوکور لیمپوں میں دھندلاتے ہوئے چراغ جلتے تھے۔ فضا نے زمین سے سکھ اور شانتی کا ایک خاموش معاہدہ کر رکھا تھا۔ لیکن پل پل بدلتی دنیا کے توسیع پسند ذہنوں کی قبضہ گیری نے دیکھتے ہی دیکھتے لہلہاتے ہوئے پودے، جھومتے ہوئے درخت اور سایہ دار پیپل کے پیڑکاٹنے شروع کر دیے۔ ریشم کا درخت فرنیچر انڈسٹری نے ہڑپ کر لیا۔ باقی ماندہ درختوں کو بدلتے سمے کے تقاضوں نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ لکڑی کہیں تعمیرات میں کام آئی، کہیں ایندھن بنی۔ جہاں قطعاتِ اراضی خالی نظر آئے امارت کے شوقین عمارت پرستوں نے پلازے کھڑے کر دیے۔ رہی سہی کسر بدلتی ہوئی حکومتوں کی اچھلتی ہوئی ٹائون پلاننگ نے نکال دی۔ شہر میں شہریت کے خدوخال ہی نہیں رہے۔ سو، میں ڈھونڈتا ہوں ان قدیم شہروں کو اور ان لوگوں کو جن کے دم سے شہر آباد اور دل شاد تھے۔گلیاں اور سڑکیں اتنی ادل بدل چکی ہیں کہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک جاتا ہوں، شہر قدیم مجھے نہیں ملتا، میرے اندر کا شہر مجھے نہیں ملتا۔ جو شہر میرے باہر پھیلا ہوا ہے اس میں میرا جسم رہتا ہے۔ میری روح اس شہر کے اندر رہتی ہے جو میرے اندر کا شہر ہے۔ جب کبھی اس شہر سے ملنے کو جی چاہتا ہے کوئی اچھی کتاب پڑھتا ہوں، کوئی اچھا گیت سنتا ہوں، کسی اچھے آدمی سے ملتا ہوں۔ میرے اور اس کے سرمل جائیں تو وہ مجھے اپنے اندر کی بستی کا آدمی معلوم ہوتاہے۔ اسی لیے میں اسے زیادہ سے زیادہ سنتا ہوں، زیادہ سے زیادہ پڑھتا ہوں۔ یہ جانچنے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ میرے موسم کا آدمی ہے کہ نہیں۔ آج کل مختار جاوید کو سن اور پڑھ رہا ہوں۔ ان سے ابتدائی ملاقات اور ابتدائی سماعت نے احساس دلایا کہ یہ آدمی تو میرے اندر کی بستی کا مکین ہے۔ خفت بھی ہوئی، ندامت بھی کہ آج تک میں اس سے یا وہ مجھ سے کیوں نہیں ملا۔ بہرحال یہ میری خوش بختی ہے کہ ’’جھیل میں ستارے‘‘ مجھے مل گئے۔ سبھی میں تو نہیں البتہ کسی کسی غزل میں، کسی کسی شعر میں، مختار جاوید نے مجھے بڑی یگانگت، بڑی قربت، بڑی یک جہتی کا احساس دلایا۔ محسوس ہوا کہ ہمارے شہر مختلف ہیں، مگر اندر کے شہر اور بستیاں مشترک ہیں۔ اس کا اظہار مختار جاوید کے ان اشعار میں بھی ہوتا ہے:
وہم و گمان ہوں کہ میں خواب و خیال ہوں
ہونے کے باوجود ابھی تک سوال ہوں
زنداں کہوں تو کیسے کہوں ہر حصار کو
جب گھر میں ہوں تو کیسے کہوں یرغمال ہوں
……………
کسی زنداں سے کم نہیں لیکن
گھر سی لگتی ہے کائنات مجھے
اس عالم رنگ و بُو میں وجود اور عدم وجود کی تہوں میں کار فرما عناصر پر غور و فکر کا عمل جاری و ساری ہے اور ہونے اور نہ ہونے کے درمیان جو یقین اور بے یقینی کی کیفیت ہے وہ مختار جاوید کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔
ہم یہاں بھی نہیں، وہاں بھی نہیں
اب ہمارا کہیں نشاں بھی نہیں
یہ زمیں قبر کی زمیں ہی نہ ہو
اس زمیں پر تو آسماں بھی نہیں
جل رہا ہوں کہ بجھ رہا ہوں میں
روشنی بھی نہیں، دھواں بھی نہیں
تخلیقی سفر کی جہات بدلتی رہتی ہیں۔ مسافر اپنے مشاہدات کے دامن میں سینکڑوں مناظر کی خوشبو، غبار، چہرے، یادیں، زخم، تبسم نیم وا اور وہ سب کچھ جو مسافرت کا حصہ ہے، سمیٹے ہوئے ہے۔
میں برگِ زرد ہوں اور برگِ نوبہار ہے تو
مرا مقام کہاں ہے ترے مقام کے ساتھ
وہ ایک ساعتِ رنگیں جو وصل جیسی تھی
نمٹ رہی ہے ترے ہجرِ ناتمام کے ساتھ
پچھلے دنوں وہ اچانک عارضۂ قلب میں مبتلا ہو گئے۔ احباب پرسش احوال کو گئے تو چاق و چوبند اٹھ بیٹھے۔ اپنے معصومانہ تبسم سے وضاحت کی ؎
یہ انتباہ، خلفشار کی علامت ہے
کہ دل، دراڑ کے ہوتے ہوئے سلامت ہے
وجود ہوں نہ اشارہ کسی وجود کا ہوں
بغیر جسم کے ہونا مری جسامت ہے
زندگی نے مختار جاوید کو سہل نہیں لیا۔ یہ اس لحاظ سے اچھا ہوا کہ زیست کی اس پتھریلی چکی کے بڑے پاٹ نے انہیں درشتی سے جھٹکا نہیں، پیسا نہیں،ریزہ ریزہ نہیں کیا، لیکن اس کے طرز عمل نے مختار جاویدکو تراش خراش ضرور دیا۔ اس تراش خراش ہی نے ان کے خدوخال واضح اور اجاگرکیے:
گونج تھی کل بھی اس فسانے کی
یہ کہانی ہے ہر زمانے کی
جس کو لوٹا ہے پوری فرصت سے
ہم ہی پونجی تھے اس خزانے کی
ہر مسافت ہے پائوں کے نیچے
دیر ہے بس قدم اٹھانے کی
زندگی کی دروں بینی کے عمل کے ساتھ ساتھ بالائے زمیں بھی ان کا رشتہ خارجی دنیا سے برقرار رہا۔
ایک کردار میں ضم، دوسرا کردار ہوا
جب کہیں دھوپ، کہیں سایۂ دیوار ہوا
بیچنے والے مجھے بیچ گئے در پردہ
میرا نیلام اگرچہ سر بازار ہوا
تماشہ گاہِ عالم میں مختار جاوید محض ایک تماشائی نہیں، ایک مبصر، تجزیہ نگار اور شاعر کی حیثیت سے جبلی اوصاف کے ساتھ نمودار ہوا اور جو دیکھا اسے ذہن کی چھلنی میں چھان کر پیش کر دیا
اگر نہ زیست پر اتنا غرور کرتے لوگ
تو اپنی موت سے پہلے کبھی نہ مرتے لوگ
یہ کیا ہوا کہ سمٹ ہی نہیں سکے برسوں
بکھر بھی جائیں تو ایسے نہیں بکھرتے لوگ
کشش حیات میں ہوتی ہے یا نہیں ہوتی
مگر کبھی نہیں اپنی خوشی سے مرتے لوگ
جہاں بھی آئے نظر ڈوبتے نظر آئے
کہیں نہ آئے نظر ڈوب کر ابھرتے لوگ
آشنائی کے ابتدائی لمحوں میں مختار جاوید نے بتایا تھا ؎
ہمارا ایک ہی موسم ہے ہر زمانے میں
پڑے ہیں ہم بڑی مدت سے سرد خانے میں
کب اس کو یاد کیا، کب نہیں وہ یاد آیا
میں بھولنے میں مگن تھا، وہ یاد آنے میں
سفر نہیں تھا کوئی دوہری مسافت تھی
رہے وہیں کے وہیں لوگ آنے جانے میں
اک آنکھ جیسے کسی جھیل میں ستارے ہوں
فلک، کہاں تھا فلک ہجر کے زمانے میں
زندگی کے روز و شب کو سوتی جاگتی آنکھوں والے مختار جاوید جیسے درویش خدامست نے محراب کے نیچے دعائوں کی ہتھیلی پر رکھے چراغ کو روشن رکھنے میں بسر کیا ؎
زباں پہ آئے تو لمبی اڑان بھر جائے
رُکے بغیر، دعا آسمان پر جائے
درویش دنیا کا بوجھ نہیں ہوتا۔ وہ تہی دست ہو کر بھی پائے حقارت سے دنیا کو ٹھکرا دیتا ہے اور اعلان کر دیتا ہے ؎
خود اپنے ہاتھ سے دے آئو دنیا
جدھر کی ہے ادھر پہنچائو دنیا
ہماری آدمیت ہے گراں تو
اٹھائو زندگی، لے جائو دنیا
تماشہ دیکھنے والو! خدارا
بہت ہے اور مت پھیلائو دنیا
مختار جاوید کے اندر کی بستی کا آدمی خارجی دنیا کے ان مصنوعی شور و غل سے تنگ آیا ہوا مکیں ہے۔ اندر کے لوگ جب اپنی منڈیروں سے جھانکتے ہیں تو انہیں تضادات سے بھری ہوئی اس دنیا میں کوئی دلکشی نظر نہیں آتی، مگر کسی کی نظر اگر اس جھیل پر پڑ جائے جس میں مختار جاوید کی تخلیقی مسافتوں کے ستارے چمک رہے ہیں تو بے ساختہ وہ بے نیازِ غمِ دنیا ہو کر اس جھیل میں ڈوب جائے اور ہمیشہ کے لیے امر ہو جائے !
(اعتبار ساجد)
