Kalam e Naseer - Buy Online | Book Corner

KALAM E NASEER کلام نصیر

Inside the book
KALAM E NASEER

PKR:   500/- 200/-

Author: PIR NASEER UD DIN NASEER
Editor: MUHAMMAD AMIR MASOOD AMIR GOLARVI
Binding: hardback
Pages: 128
ISBN: 978-969-9396-98-4
Categories: ISLAM POETRY
Publisher: BOOK CORNER

ــــــیوں لگتا ہے جیسے ازل سے میری رُوح حصارِ عشقِ محمد ﷺ میں پناہ گزین ہے ازل سے اُنہی قدوم مبارک میں جبینِ نیاز سربہ سجود ہے، شعور کی آنکھ کھولی تو گھر میں اﷲاور اُس کے حبیبِ مکرمﷺ کے ذکرِ اطہر سے فضا کو معمور پایا۔ میں شعوری طور پر نعت کی طرف نہیں آیا؛ اس لیے بنیادی محرکات کی توجیہ کرنے سے قاصر ہوں۔
یہ الفاظ صاحبِ طرز نعت گو شاعر جنابِ ریاض حسین چوہدری کے ہیں؛ لیکن شاعرِ ہفت زباں، سیّد نصیر الدین نصیر گولڑوی کے علمی، فکری اور روحانی پس منظر کے ساتھ ان خیالات کی کمال درجہ کی مماثلت پائی جاتی ہے۔ عصرِ حاضر کو نعتِ رسول ﷺ کی خوشبو سے مہکانے والے گولڑہ شریف کے اس چشم و چراغ نے نعتیہ کلام کو نئے آفاق کی وسعتوں سے آشنا کیا، تو اس میں ایک محرکاتی عنصر یہ بھی شامل ہے کہ ان کے رگ وپے میں نعتِ رسولﷺ کی حلاوت و چاشنی شامل ہے، ان کا خمیر ہی عشقِ سرکار سے اُٹھایا گیا ہے، ان کی لکھی گئی مدحتِ سیّدالوریٰﷺ کا سلسلہ
کتھے مہر ِ علی کتھے تیری ثنا
کے شہرہ آفاق رُوح پرور اور ایمان افروز نعتیہ نغمے سے جا ملتا ہے جسے فاتحِ قادیانیت غوثِ زماں فیض یافتہ شمس العارفین سیالوی حضرت پیر مہر علی شاہ کے خامۂ عنبر شمامہ سے پھوٹنے کا اعزاز حاصل ہے۔ خود شاہ صاحب اس نعت کے بارے میں رقمطراز ہیں:
کہنے کو تو نعتیں سب نے کہیں یہ نعت نصیر آفاقی ہے
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا کیا خوب کہا سبحان اﷲ
شاہ صاحب نے مختلف زبانوں میں تقریباً تمام اصنافِ شاعری میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کی طبیعت کو ایک خاص نسبت ، مدحتِ سرکار دو عالم ﷺ سے ہے۔
شاہ صاحب کا نعتیہ کلام دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ورق ورق پر عقیدت و محبت کے پھول مسکرا رہے ہیں۔ سطر سطر پر خلوص و وفا کی کلیاں مہک رہی ہیں اور لفظ لفظ سے عشق و مستی کے غنچے چٹک رہے ہیں۔
شاہ نصیر الدین نصیر کا تعلق اس کاروانِ محبت سے ہے جس نے نعتیہ کلام کو جدید طرز و اسلوب سے ہم آہنگ کر کے باوقار جدت عطا کی ہے اور سیرت کے مختلف گوشوں کو اشعار کی سِلک میں پرو کر ’’دہر میں اسمِ محمد ﷺ سے اُجالا کر دے‘‘کے سنہری مشن میں عملی کردار ادا کیا ہے۔
شاہ صاحب نے جو نذرانہ عقیدت دربارِ رسالت مآبﷺ میں پیش کیا ہے وہ اُس کی قبولیتِ تامہ اور مقبولیتِ عامہ کی تمنا بھی رکھتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو :
نصیرؔ نعتِ نبی کا ہو فیض یوں جاری
نظر نظر میں ہمارا کلام آ جائے
یہ شاہ صاحب کا کمال درجے کا اخلاص تھا کہ ان کی زندگی میں ہی دُنیا بھر میںان کا نعتیہ کلام ان کا معتبر حوالہ بن گیا۔ شاید ہی کوئی محفلِ نعت ایسی ہو جہاں شاہ صاحب کا نعتیہ کلام نہ پڑھا جائے۔ اِس بات کا انہیں خود بھی احساس تھا۔
دُنیا مجھے پہچانتی ہے
نعت گوئی کا صِلا ہے یہ بھی
عموماً یہ ہوتا ہے کہ اکابرین کی اولاد ان کے نقشِ قدم پر نہیں چلتی ، لیکن شاہ صاحب اس سلسلے میں انتہائی خوش نصیب ہیں کہ ان کی اولاد بھی اسی عشقِ لازوال کی دولتِ با کمال سے بہر ہ یاب ہے۔شاید یہ ان کی دُعائوں اورتربیت کا اثر ہے۔
میرے بچوں کو وراثت میں ملے حُبِّ رسولﷺ
یہ اثاثہ بعد میرے بھی تو گھر میں چاہیے
زیرنظر کتاب شاہ نصیر الدین نصیر کے اُردو نعتیہ کلام کا ایک حسین انتخاب ہے جو محترم جناب عامر مسعود عامر گولڑوی نے کیا ہے۔ اساتذۂ فن کے کلام سے انتخاب یقینا مشکل کام ہے لیکن موصوف اس نازک مرحلے سے انتہائی کامیابی سے گزرے ہیں۔ ان کا یہ انتخاب گلشن میں سے چند گل ہائے رعنا کو ایک گلدستے کی صورت میں پیش کرنے کے مترادف ہے۔ مزید برآں بک کارنر جہلم نے اسے خوبصورت سرورق اور معیاری پرنٹنگ کے ساتھ شائع کر کے اس کے حُسن کو نکھار دیا ہے ۔
بلاشبہ! باذوق افراد کے لیے یہ ارمغانِ عقیدت سے کم نہیں۔

پروفیسر سید امیر کھوکھر

RELATED BOOKS