YAGANA CHANGEZI (SHAKHSIAT-O-FAN & INTIKHAB KALAM) یگانہ چنگیزی (شخصیت و فن، مع انتخاب کلام)
PKR: 800/- 320/-
Author: WASEEM FARHAT KARAJNVI
Tag: YAGANA CHANGEZI
Binding: hardback
Pages: 400
ISBN: 978-969-662-012-9
Categories: BIOGRAPHY URDU LITERATURE POETRY TANQEED
Publisher: BOOK CORNER
میرزا یاسؔ عظیم آبادی اُردو کے مشہور شعرا میں ہیں۔ یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ میرزا یاس یگانہؔ اپنے وقت کے ایک کامل شاعر ہیں، ان کے خیالات بلند، زبان صاف ستھری، ترکیبیں چست اور کلام حشو و زوائد سے پاک ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ لکھنو کے طرزِ شاعری میں ان کے ہنگاموں کے باعث مفید انقلاب پیدا ہوا ہے۔ غزلیات کے ساتھ ان کی ہر رُباعی زبان کی صفائی اور روزمرہ اور محاورات کی برجستگی اور ترکیبوں کی چستی کے لحاظ سے قابلِ داد ہے۔ ایسا نہ سمجھا جائے کہ ان کی رُباعیوں کے مضامین صرف ’فلسفۂ خودی‘ کی تشریح پر مشتمل ہیں، بلکہ ’انفس‘ کے بعد ’آفاق‘ کا فلسفہ بھی ان میں جا بہ جا بیان کیا گیا ہے، کہتے ہیں اور کیا خوب کہتے ہیں۔
(سید سلیمان ندوی)
یگانہؔ پہلا شخص تھا جس نے لکھنو کے روتے اور بسورتے رنگِ تغزل پر کاری ضرب لگائی اور یہ کہنا غالباً غلط نہ ہوگا کہ یگانہؔ ہی نے سب سے پہلے اپنے زمانے کے لکھنوی شاعروں کے اُس رنگِ تغزل کو بدلاجو اپنا اصلی رنگ چھوڑ کر بے تمیزی کے ساتھ غالبؔ کی تقلید پر آمادہ ہو گئے تھے۔ یگانہؔ نے غالبؔ کے متعلق جو کچھ لکھا، میں اسے ردِعمل سمجھتا ہوں اس شدید مخالفت کا جو لکھنوی مقلدین کی طرف سے یگانہؔ کے باب میں ظاہر کی گئی اور جسے یگانہؔ ایسے حساس آدمی کے دماغ کو واقعی بری طرح متاثر کرنا چاہیے تھا، ورنہ یگانہؔ کی فطرت شاید اس کو گوارا نہ کرتی۔ یگانہؔ کی شاعری حسن و عشق کا وہ مرقع نہیں ہے ،جس میں محبت کی فتادگی، خواری وتذلل تک پہنچ جاتی ہے بلکہ اس میں ہمیں ایسے عشقِ خوددار کی جھلک نظر آتی ہے جس کا سینہ تو ضرور خونچکاں ہے لیکن لب پر آہ و فغاں نہیں ہے۔ ایسے جواہر ریزوں کی ان کے یہاں کمی نہیں ہے۔
(علامہ نیاز فتح پوری)
میزرا یاسؔ یگانہ اردو غزل میں پہلے شخص ہیںجن کی شاعری میں وہ کس بل محسوس ہوتا ہے جس کو ہم صحیح اور توانا زندگی سے منسوب کرتے ہیں۔اس سے پہلے بھی میں کسی موقع پر کہہ چکا ہوں کہ یگانہؔ پہلے شاعر ہیں جو ہم کو زندگی کا جبروتی رخ دکھاتے ہیں اور ہمارے اندر سعی و پیکار کا ولولہ پیدا کرتے ہیں۔غزل کو جو اب تک صرف حسن و عشق کی شاعری سمجھی جاتی رہی ہے یگانہؔنے زندگی کی شاعری بنا دیا ہے اور انسان اور کائنات کی ہستی کے رموز ا شارات کو اپنی غزلوں کا موضوع قرار دیا ہے۔میرے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ ان کے ہاں حسن و عشق سے متعلق اشعار نہیں ملتے،ملتے ہیں مگر ان میں بھی حسن و عشق کا احساس عام اور عالم گیر زندگی کے احساس میں سمویا ہوا ہوتا ہے۔
(پروفیسر مجنوںؔ گورکھپوری)
میں بہت کم کتابیں پوری پڑھ پاتا ہوں،لیکن یقین جانئے کہ ’’ یگانہ چنگیزی‘‘ شروع سے آخر تک پڑھی۔ واقعی یہ ایک اچھی کتاب ہے۔آپ نے کڑی محنت سے کام انجام دیا ہے۔
(شمس الرحمن فاروقی)
مجھےنہیں معلوم کہ یاس یگانہ چنگیزی پر اب تک کتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اس کتاب میں بھی کتابیات کی تفصیل یہ کہہ کر چھوڑ دی گئی کہ اس میں 25صفحے لگ جاتے۔ وسیم فرحت بھارت میں رہتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی یگانہ پر کام کے لیے وقف کر دی ہے۔ یہ کتاب ویسے تو یگانہ کی شخصیت و فن پر ہے، لیکن اس میں ان کی شاعری کا انتخاب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یگانہ کے حوالے سے ان کی تین اور کتابیں بھی آنے والی ہیں۔ یگانہ سے وسیم فرحت کا تعلق یہ ہے کہ ان کے والد، خلیل فرحتت کارنجوی یگانہ کے بڑے شائق تھے۔ اُن کی حق پرستی، بصورتِ خود پرستی کو نہ صرف سمجھتے تھے، بلکہ سمجھاتے بھی تھے۔ یگانہ کو غالب مخالف کے طور پر جانا جاتا ہے، جب کہ اُنہیں غالب سے نہیں، غالب پرستوں سے اختلاف تھا اور ان کی رائے یہ تھی کہ غالب بڑا شاعر ہے، لیکن آتش سے بڑا نہیں۔ اس کے علاوہ اُنہیں غالب کی شاعری پر جو اعتراضات تھے، وہ ان کے رسالوں میں شایع ہو چکے ہیں۔ ان اعتراضات کے بارے میں وقت کے فیصلے کے باوجود اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یگانہ ایک منفرد، یگانہ اور بعد میں جدید کہلانے والی غزل کے پہلے شاعر تھے اور ان کی غزل کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے، تو محسوس ہوتا ہے کہ جدید غزل نے لہجے اور اسلوب میں جتنی تقلید یگانہ کی ہے، کسی اور شاعر کی نہیں کی۔ جو عام طور پر خود کو میر اور غالب سے قریب سمجھتے ہیں، وہ بھی لہجے، الوب اور لسانی برتائو میں یگانہ سے ازیادہ قریب ہیں، چاہے انہوں نے یگانہ کو پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ اگر نہ پڑھنے پر بھی غزل کہنے والوں پر یگانہ سے متاثر ہونے کا گمان ہوتا ہے، تو کہا جا سکتا ہے کہ یگانہ کے ہاں غزل کا مستقبل تھا۔ یہ تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یگانہ کو ان کی اندازِ فکر کی وجہ سے مشکل صورتوں کا سامنا رہا، لیکن اس کتاب میں شامل خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مشکلیں کتنی سنگین تھیں۔ یہی نہیں کہ اُن کی اہلیہ اور بچے اُنہیں چھوڑ کر پاکستان آ گئے تھے۔ اندازہ اس بات سے کریں کہ یگانہ جیسا آدمی مرنے سے پہلے صاحبِ اعتبار لوگوں کو بلاتا ہے، ان کے سامنے کلمہ پڑھتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے کہ کیا اُس نے کلمہ درست پڑھا ہے؟ اور کیا وہ مسلمان ہے؟ انتقال کے بعد کوشش کی جاتی ہے کہ اُنہیں غسل نہ دیا جاسکے۔ جنازے میں گنتی کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ یہ کتاب سنگین حقیقتوں اور کم ظرفیوں کو ہمارے سامنے لاتی اور اداس کرتی ہے۔ بلاشبہ یہ یگانہ چنگیزی کے بارے میں ایک ناگزیر کتاب ہے۔
(انور سن رائے)
وسیم فرحتؔ کارنجوی، بھارت کے سخت نقاد اور سخت جان محقق ہیں ۔ سہ ماہی ’اردو‘ کے مدیر ہیں۔انھوںنے بڑی جاںفشانی سے ’’یگانہ چنگیزی (شخصیت و فن، مع انتخاب کلام)‘‘ مرتب کر کے دنیائے ادب کو خوش گوار حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ وسیم کی یہ کتاب ’’ہاٹ کیک‘‘ کی طرح مشہور ہوئی ہے ۔ وسیم کا بڑا کارنامہ تو مکتوبات یگانہ کی دریافت ، تدوین ،ترتیب اور طباعت تو ہے ہی مگر ان مکتوبات کے حواشی پر جس قدر محنت اور دقت اٹھائی ہے اس سے ان کے محققانہ ذوق کا بخوبی پتہ چلتا ہے ۔ یعنی مکتوبات کی دریافت سے کہیں زیادہ بڑا کام ان مکتوبات کے حواشی ہیں جس سے دیگر محققین ،طالب علم اور مصنّفین کا کام آسان ہوتا ہے۔ وسیم فرحت کارنجوی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے یگانہ کے نام اور کام کودوبارہ زندگی دی ہے۔
(سید معراج جامی)
