SIKANDAR E AZAM سکندر اعظم
SIKANDAR E AZAM سکندر اعظم
PKR: 1,800/- 900/-
Author: ANJUM SULTAN SHAHBAZ
Binding: hardback
Pages: 460
ISBN: 978-969-662-189-8
Categories: HISTORY BIOGRAPHY CIVILIZATION
Publisher: BOOK CORNER
تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے سکندرِ اعظم کا نام ہزار ہا سال سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ انتہائی تعظیم سے اسے یاد کیا جاتا ہے۔ دُنیا کے ان فاتحین میں سکندر اعظم کا نام شامل ہے جن کی جنگلی صلاحیتوں اور قیادت کا تاریخ نے بھی اعتراف کیا ہے۔ شیکسپیئر اس سے متاثر تھا۔ نپولین سکندر کی تاریخ اپنے پاس رکھتا تھا۔ نوجوانوں کے لئے وہ ایک ہیرو تھا۔ شہنشاہ آگسٹس نے ایک بار کہا تھا: اگر سکندر ۳۲ سال کی عمر میں دُنیا سے رخصت نہ ہوتا تو آج اس کے کارنامے اور فتوحات کا شمار کرنا مشکل ہوتا۔ ارسطو جیسے استاد نے سکندر کو تاریخ ادب کی مکمل تعلیم کے بعد فلسفہ، سائنس اور طب کی طرف راغب کیا۔ عظیم فاتح ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فلسفی بھی تھا۔ اس نے ہندوستانی فلسفیوں اور برہمنوں سے مختلف موضوعات پر مناظرے اور مباحثے کر کے اپنی قابلیت منوا لی تھی۔ سکندراعظم پر بے شمار کتابیں موجود ہیں، مگر قابل مصنف انجم سلطان شہباز صاحب نے محنت و کاوش کے بعد کتاب لکھی ہے جس کے وہ تعریف کے مستحق ہیں۔کتاب کی آرائش و زیبائش دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ شروع کے تینتیس صفحات سکندر اعظم کی تصاویر سے منقش ہیں۔ ان صفحات کو دیکھتے ہوئے ایک پوری تاریخ سامنے آجاتی ہے۔ نایاب تصاویر سے مزین کتاب کا حسن اور بھی آب و تاب سے نکھر گیا ہے۔ اکہتر (۷۱) ابواب پر مشتمل کتاب کے ہر گوشہ کو عیاں کرتی ہے۔ سکندر اعظم سے جڑے اہم کردار، حلیہ، مقدونیہ، ارسطو، سکندر اعظم میدان عمل میں، سکندر کی تخت نشینی، فتوحات کا سلسلہ، غزہ کا محاصرہ، قلعہ سغد کی فتح، پوٹھوہار کا دروازہ، پورس سے معرکہ آرائی، جہلم کے کنارے تاریخی جنگ کا جائزہ، صحرائے مکران کا سفر، بابل میں قیام، سکندر کی موت، سکندر کے جانشین وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ کتاب کا ہر باب انتہائی خوبصورت انداز میں صفحۂ قرطاس پر عمدگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ قاری تاریخ کے جھروکوں میں ذرا بھی اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ کہیں جل پری یا سورج کی بیٹی کا ذکر ہے۔ کہیں برسین سے شادی کا تذکرہ ہے۔ درندوں کی ملکہ سے لے کر سکندر اور پورس کی معرکہ آرائی پر تبصرہ ہے۔ معرکہ ملتان ہے۔ جہاں اس نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور واقعی اپنے آپ کو ایک ہیرو ثابت کر دکھایا۔کتاب کئی لحاظ سے منفرد ہے۔ مصنف نے زیادہ تر مواد سکندر مقدونی از ہیرلڈلیم، سکندر اعظم از ایلن لین فاکس اور ہسٹری آف دی نیشنز سے لیا ہے جس سے اس کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے۔ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ اسے اپنی لائبریری کی زینت بنائیے۔ نوجوانوں کے لئے تحفہ ہے۔ ضخامت کے لحاظ سے قیمت مناسب ہے۔ ناشران بک کارنر شو روم والوں نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے خوبصورت تاریخی کتاب شائع کی ہے۔ جسے دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ (تبصرہ نگار: صغیرہ بانو شیریں،اردو ڈائجسٹ، ستمبر 2010ء)
RATE THIS BOOK
RELATED BOOKS
