Hayat e Muhammad (4th Edition) - Buy Online | Book Corner

HAYAT E MUHAMMAD (4TH EDITION) حیات محمد

Inside the book
HAYAT E MUHAMMAD (4TH EDITION)

PKR:   3,000/- 1,500/-

Author: MUHAMMAD HUSSAIN HAYKEL
Translator: ABU AFZAL SHAHZAD MUHAMMAD KHAN
Binding: hardback
Pages: 647
ISBN: 978-969-9396-34-2
Categories: ISLAM SEERAT UL NABI BIOGRAPHY TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER

عربی نژاد، انشا پرداز اور ماہرِ سیاسیات، محمد حسین ہیکل، 20 اَگست 1888ء کو مصر میں واقع مرکز السنبلاوین کے ایک گاؤں ’’کفرغنام‘‘ میں خالصتاً دیہاتی خاندان میں پیدا ہوئے۔ پانچ سال کی عمر میں والد نے انھیں گاؤں کے مکتب میں داخل کرا دیا۔ وہیں لکھنا پڑھنا سیکھا اور ایک تہائی قرآن کریم حفظ کیا۔ جب سات سال کے ہوئے تو ان کے والد نے انھیں قاہرہ بھیج دیا۔ بعد ازاں مدرسۃ الحقوق (لاء کالج) میں داخلہ لیا۔ مزید تعلیم کے لیے فرانس کا سفر کیا اور 1912ء میں سوربون یونیورسٹی میں ’’دین مصر العام‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ محمد حسین ہیکل کا ادبی ذوق لاء کالج میں تعلیم کے دوران پروان چڑھا۔ اسی زمانے میں انھوں نے قدیم عربی کتابوں کا مطالعہ کیا اور ’’الجریدۃ‘‘ کے ایڈیٹر شیخ احمد لطفی السید سے راہ و رسم ہموار کیے اور اس اخبار کے مقالہ نگاروں میں شامل ہو گئے۔ محمد حسین ہیکل کے معاصر ڈاکٹر طہٰ حسین نے اخبار کی ادارت میں ان کا ساتھ دیا اور دونوں نے اپنی کوششوں سے حزب الاحرار کے اخبار کو بامِ عروج تک پہنچا دیا۔ پندرہ سال صحافتی زندگی گزارنے کے بعد ہیکل نے ملک کی وزارت میں قدم رکھا اور 31 دسمبر 1937ء کو وزیرِ داخلہ کا منصب سنبھالا۔ پھر وزیرِ تعلیم و تربیت بنے۔ 1945ء میں سینیٹ کے صدر بنا دیے گئے اور 1950ء تک اسی منصب پر قائم رہے۔ بعد ازاں وہ اپنے گھر ہی میں مطالعۂ کتب اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے تاآں کہ 8 دسمبر 1956ء کو شفاف زندگی گزارنے کے بعد قاہرہ میں داعئ اجل کو لبیک کہا۔ محمد حسین ہیکل نے مغربی مصنّفین کی کتب کو مصری زبان میں ترجمہ کیا۔ انھوں نے کئی موضوعات پر اپنی مؤقر اور زریں نگارشات پیش کیں جن میں ’’حیاتِ محمد‘‘، ’’حضرت ابوبکر صدیق‘‘، ’’حضرت عمر فاروق اعظم‘‘ اور ’’حضرت عثمان غنی‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ’’حیاتِ محمد‘‘ میں مؤلف نے مستشرقین کے ان شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کیا ہے جنھیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ، یہود و نصاریٰ، اوس و خزرج اور منافقین کے درمیان اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے آپ کی انتھک کوششوں اور ان کے آپسی جھگڑوں اور اختلاف کے متعلق اچھالتے رہتے ہیں۔

---

یہ ضخیم کتاب ایک ایسی محترم اور مقدس ہستی کے بارے میں ہے، جو ساری دنیا کے انسانوں کے لئے رحمت ہیں، اور یہ موضوع ایسا ہے، جس پر سینکڑوں، ہزاروں نہیں لاکھوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ جن میں بعض کتابیں متعدد جلدوں پر مشتمل ہیں۔ سرور کائنات حضرت محمدمصطفیﷺ کی حیاتِ مبارکہ، آپﷺ کا عہد اور آپﷺ کے ارشادات اور تعلیمات کے بارے میں قریب قریب دنیا کی بیش تر زبانوں میں کتابیں لکھی گئی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔ خود اردو زبان میں بھی ان کی تعداد اس قدر ہے کہ ان کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ صرف اردو ہی نہیں، ہمارے ملک کی دوسری زبانوں، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، براہوی، کشمیری، ہندکو وغیرہ میں بھی اَن گنت کتابیں موجود ہیں۔ آپﷺ کی سیرت پر محدثین، مفسرین، مؤرخین، علماء و فضلاء، سیرت نگاروں اور دانشوروں کی بے شمار کتابیں عام مسلمانوں کے لئے موجود ہیں، جن کے مطالعے سے وہ سیرت مبارکہ سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ پیش نظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ہے اور یہ ایک ایسے قلم کار کی تالیف ہے، جس کا تعلق عرب دنیا سے تھا وہ اپنی تحریروں کی وجہ سے پوری دنیا کے علمی و ادبی حلقوں میں معروف ہیں۔ عربی زبان کے ادیب، مفکر، مؤرخ، سیرت نگار اور صحافی ڈاکٹرمحمدحسین ہیکل کا نام عربی زبان و ادب میں سند کا درجہ رکھتا ہے۔ آپ مصر کے مشہور اخبار ’’الاحرام‘‘ کے ایڈیٹر تھے اور صحافتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آپ نے تالیفات و تصنیفات کا سلسلہ بھی جاری رکھا، چنانچہ آپ کی کئی کتابیں ہیں۔ جن میں سے ’’حیات محمدﷺ‘‘ مقبول تالیف ہے۔ اس کتاب میں مؤلف نے یوں تو حضورنبی کریمﷺ کی زندگی کو موضوع بنایا ہے، لیکن وہ صرف حالات و واقعات ہی لکھنے تک محدود نہیں رہے، بلکہ اس عہد کے عمومی اور تاریخی منظرنامے پر بھی نظر ڈالی ہے۔ حضوراکرمﷺ کی بعثت سے آخری ایام تک کے حالات رقم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے مخالفین اور مستشرقین کے ان الزامات اور مذہبی تعصّبات کا بھی مدلل جواب دیا ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تحریر کئے گئے اور بقول مترجم ’’ڈاکٹرمحمدحسین ہیکل نے اپنی اس تالیف ’’حیاتِ محمدﷺ ‘‘میں علمی نقطۂ نظر سے قرآن و احادیث کے ٹھوس اور مدلل جوابات دئیے ہیں اور کسی بھی مقام پر مستشرقین اسکالرز کی سیرت طیبہ پر لکھی ہوئی کتابوں میں غیرمصدقہ، بے بنیاد اور غیرمستند واقعات کی تردید کرتے وقت موصوف نے اخلاقِ حسنہ سے پہلوتہی نہیں کی۔‘‘ اس ضخیم اور اہم موضوع کی کتاب کے اُردو ترجمے کی صحیح داد تو وہی دے سکتے ہیں جو عربی زبان و ادب سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ تاہم میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ترجمہ صاف زبان و الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے ترجمے کی تصحیح و تخریج کا فریضہ نویداحمدربانی نے ادا کیا ہے اور وضاحتی حواشی کے علاوہ حوالے کی عربی عبارتیں بھی حاشیے میں درج کر دی ہیں۔ کتاب میں مقدس مقامات کی تصاویر پر مبنی 32صفحات بھی ہیں۔ (شین عین، جنگ سنڈے میگزین)

RELATED BOOKS