IKEES AIK SO BAAIS اکیس ایک سو بائیس
IKEES AIK SO BAAIS اکیس ایک سو بائیس
PKR: 1,200/- 840/-
Author: KHALID JAWED
Binding: hardback
Pages: 239
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-670-1
Categories: NOVEL
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 25 March 2026
ان کی نثر سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ خالد جاوید کی نثر کیکڑے کی طرح آگے بڑھتی ہے۔ آگے پیچھے، دائیں بائیں سب کچھ سمیٹتے ہوئے۔ ان کی نثر ہر ناپسندیدہ چیز کا بوجھ اٹھاتی ہے، اسی لیے لوگ اس سے آنکھ چراتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کے افسانے کو عام بیانیے کی سطح سے اٹھا کر کسی طرح کے روحانی منشور کا درجہ عطا کردیتی ہیں۔ اس بیانیے کا ہی کمال ہے کہ ’’نعمت خانہ‘‘ جیسا ناول اُردو تو اُردو، انگریزی زبان میں بھی شاید ہی لکھا گیا ہو۔
—شمس الرحمٰن فاروقی
خالد جاوید کی کہانیاں بہت اکیلی اور بےمیل اور ہر طرح کی باہری امداد اور سہارے سے محروم ہیں۔ ان کو سہارا ملتا ہے اپنی گھنی سرکش زبان اور ہر طرح کی بندشوں کو خاطر میں نہ لانے والے بیان سے۔ یہ کہانیاں قرۃالعین حیدر، انتظار حسین اور نیرمسعود کی کہانیوں سے تو الگ ہیں ہی، ہم عصر لکھنے والوں سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔ گہرے وجودی سوالات اور فکری بحثوں کے پہلو خالدجاوید کے یہاں اس خاموشی کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں، جیسے ٹہنیوں پر انکھوے اور کونپلیں پھوٹتی ہیں۔
—شمیم حنفی
خالد جاوید کا بیانیہ زندگی کے اصل جوہر سے مماثل ہے۔ وہ ایک ہی کہانی میں لگاتار مختلف اشکال اختیار کرتا جاتا ہے۔ عقل اور پاگل پن، سنجیدہ اور کامک، اصل اور نقل، دکھ اور قہقہہ اور ایسے ہی دوسرے متضاد عناصر اتنی سرعت اور تیزی کے ساتھ ان کے بیانیے میں آتے جاتے رہتے ہیں کہ بیانیہ کو اس کی اصل ماہیت میں گرفت میں لے پانا اتنا ہی مشکل ہوجاتا ہے، جتنا کہ ’وقت‘ کو گرفت میں لے پانا۔ خالدجاوید کے اس بیانیے کا کوئی رول ماڈل مجھے ہندوستانی ادب میں نہیں نظر آیا۔
—ادّین باجپئی
ہیئت کا نستعلیق حسن خالدجاوید کے بیانیہ کا وصف ہے۔ زبان و بیان پر انھیں غیرمعمولی قدرت حاصل ہے۔ افسانے کا ایسا حسنِ تعمیر میں نے اور کہیں نہیں دیکھا۔ خالدجاوید کی نگاہِ تخیل ہر جگہ پہنچ جاتی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے زبان بھی اپنی زنبیل لےکر باریک سے باریک جذبات اور لطیف سے لطیف احساس کو الفاظ کا جامہ پہنانے کےلیے حاضر ہوجاتی ہے۔
—وارث علوی
خالدجاوید کے فکشن پر گفتگو کرنے کے لیے تنقید کے رسمی اور کتابی آلات تقریباً ناکافی ہیں۔ تنقید کے دستیاب آلات ناقد کی نااہلی کہ جو اس کے فکشن کی جسامت پر چست نہیں بیٹھتے۔ باربار فلسفیانہ استبعاد سے مڈبھیڑ اور زبان کی اندرونی قوتوں کو مسلسل بروئے کار لانے کا عمل ہمیں اس سے جوجھنے اور دو دو ہاتھ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اتنے مراحل سے گزرنے کی جس میں تاب و توانائی ہو، اسے ہی اس سرکش دیو کو بوتل میں اتارنے کی جسارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ورنہ گفتگو سے خاموشی ہزارہا بہتر عمل ہے۔
—عتیق اللہ
خالد جاوید کی کہانی ’ادبھُت‘ ہے۔ ان کے یہاں کچھ اس قسم کی Dark Intensity ہے جو میں نے اب تک اپنی پڑھی ہوئی، ہندی تو کیا کسی عالمی کہانی میں بھی نہیں دیکھی ہے۔
—نِرمل ورما
خالد جاوید کے فکشن کا ماجرا اتنا مکمل ہے کہ فارم، تکنیک یا صنف کے تعین کے سوالات غیرضروری ہوجاتے ہیں۔ ان کے یہاں کرافٹ کا شعور اتنا گہرا ہے کہ کرافٹ سادگی کے ساتھ موجود ہوتے ہوئے بھی غائب معلوم ہوتی ہے۔ یہ وژن خالدجاوید کی تازہ کاری کا جوہر ہے اور یہ جوہر انھیں معاصر اُردو افسانے میں ایک بالکل ہی منفرد انداز کا حامل بنادیتا ہے، جس کے موجد بھی وہ نظر آتے ہیں اور خاتم بھی۔
—آصف فرّخی
بظاہر خالدجاوید کی باتیں سادہ محسوس ہوتی ہیں، مگر یہ سادگی ایک فریب ہے۔ وہ اس تضاد کو جس اسلوب میں سامنے لاتے ہیں وہ پُرفریب ہے۔ اس پر مستزاد خالدجاوید کی نثر کا بےساختہ پن اور بہاؤ۔ اس نثر میں کہیں شعریت نہیں۔ نثریت اپنے کمال کی طرف گامزن محسوس ہوتی ہے۔ یہ نثر فی الوقت انھیں سے مخصوص ہے اور کوئی ان کا حریف نہیں۔ معاصر اُردوفکشن میں بھی ان کا کوئی حریف نہیں۔
—ناصر عباس نیّر
RATE THIS BOOK
RELATED BOOKS
Do Shahron Ki Kahani (A Tale of Two Cities) (Illustrated Edition)
Author: Charles Dickens
PKR: 2,000/- 1,000/-
