DARHI WALA - 5TH EDITION - DELUXE داڑھی والا - ڈیلکس
PKR: 2,000/- 1,400/-
Author: HUSNAIN JAMAL
Binding: hardback
Pages: 368
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-351-9
Categories: SHORT STORIES ESSAYS CRITICAL THINKING
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 10 February 2026
داڑھی والے میں بظاہر نہ تو آپ کو کوئی فلسفی یا نقاد نظر آئے گا نہ ہی مفکر یا دانشور۔ آپ روانی میں اس سے گزر جائیے تو یہ لذت بھری نثرنگاری بہت عام سے موضوعات پر دلچسپ عبارت آرائی معلوم ہو گی۔ لیکن جب اس تجربے سے گزر جائیے تو ایک لحظہ داڑھی والے کی سِریت پر غور ضرور کیجیے۔ آپ پر کھلے گا کہ یہ تحریریں ایک نادیدہ لڑی میں پروئی ہوئی ہیں۔ ایک ایسی لڑی جو خود داڑھی والے کے علم میں بھی نہیں، جسے وہ چاہے بھی تو نہیں چھیڑ سکتا۔ اس لچک دار لڑی کا ایک سرا خیال کے سرچشمے سے جڑا ہے تو دوسرا حرف و تصویر کی سیراب زمینوں سے۔یہ لڑی قاری کو یوں جکڑتی ہے کہ وہ قراَتِ متن میں بہتا تو ہے لیکن بہاؤ کو محسوس نہیں کر سکتا۔ یہی آکسیجن جیسی فطری نثر داڑھی والے کا کمال ہے۔ وہ اپنے نثری کُل میں اجزا سے بڑھتا ہی نہیں بلکہ اس کُل ہی کی غیر عمداً تخلیق دراصل اس کا نثری کارنامہ ہے۔ داڑھی والا اتنی ہی عام زندگی جیتا ہے جتنا ہم میں سے کوئی بھی لیکن اس بظاہر عام سے تجربے کی تہہ میں چھپی بھرپور کیفیات کو برآمد کرنا کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ زندگی کی intellectualization تو بہت سے لوگ کرتے ہیں جنھیں عرف عام میں دانشور کہا اور مانا جاتا ہے۔ زندگی کا خالص بیان وہی کر سکتا ہے جسے تہیں کھول کر اسے صفحات کی زمین پر بچھانا آتا ہو۔ تو بس حسنین جمال کی ’’داڑھی والا‘‘ کھولیے اور حیاتِ محض کی اَن گنت پرتوں کا تجربہ ایسی لطافت سے کیجیے، جیسے ابھی ایک ساعت قبل آپ نے سانس لیا اور آپ کو تجربے کی پیچیدگی کا اندازہ بھی نہ ہوا۔
(عاصم بخشی)
حسنین جمال پچھلے چند برسوں میں سامنے آنے والے اُردو کے کالم نگاروں میں سے ایک نمایاں نام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حسنین نے اتنے تواتر کے ساتھ ایسی عمدہ تحریریں لکھی ہیں، جن کی دوسری مثال نہیںملتی۔ سو فیصد یا چلیں تھوڑا محتاط تخمینہ لگاتے ہیں، پچانوے ستانوے فیصد اچھے کالم لکھنا بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا۔ میں نے حسنین جمال کی بیشتر تحریریں پڑھی ہیں، ان کے دو تہائی سے زیادہ کالم/بلاگ ایسے ہیں جن پر رشک آیا۔ یہی خیال آیا، کاش اس موضوع پر مَیں لکھ پاتا، مگر پھرسوچا کہ جس لطافت، بے ساختگی اور دلکشی سے حسنین جمال نے لکھا، وہ انھی کا خاصا ہے۔ حسنین جمال کی تحریر میں ایک خاص انداز کی ندرت اور اچھوتا پن ہے۔ ان کی نثر میں کمال درجہ بےساختگی ہے، یوں لگتا ہے جیسے مصنّف سامنے بیٹھا اپنے مخصوص چہکتے انداز میں گُل فشانی کر رہا ہو۔ حسنین نے کالم نگاری کی روایتی، پرتکلّف زمین میں نئے تجربے کیے۔ انھوں نے بلاگ اور کالم کی درمیانی دیوار گِرا کر ان کا حسین امتزاج بنایا۔ ڈکشن ان کی اپنی ہے، بہت سے ایسے الفاظ اور جملے بھی استعمال کر لیتے ہیں جو ہم عام طور پر بولا کرتے ہیں، لکھتے نہیں۔ مجھے حسنین جمال کے یہ لسانی تجربے، نت نئے موضوعات کا انتخاب، انوکھے خیالات اور پھر ان پر نہایت عمدگی سے لکھی تحریریں بہت پسند ہیں۔ ان میں سے بعض سے مجھے اختلاف ہے ، مگر جس سلیقے اور شائستگی سے حسنین نے انھیں بیان کیا، وہ متاثر کن ہے۔ خواہش تھی کہ حسنین جمال اپنی تحریروں کا مجموعہ شائع کرے کہ ان میں سے بہت سوں کے تراشے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ کتاب کی شکل میں یہ سرمایہ محفوظ ہوگیا۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ کسی بھی صاحبِ ذوق کی لائبریری کا حصّہ بن سکے۔
(عامر خاکوانی)
حسنین جمال کی شکل کارل مارکس سے اتنی ملتی ہے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ ان کو دیکھا تو لگا کہ میرے سامنے مارکس ہی بیٹھا ہے۔ خیالات بھی موصوف کے ویسے ہی انقلابی ہیں۔ تحریروں میں البتہ ٹھہرائو اور چاشنی ہے۔ زیرِنظر کتاب کے بیشتر مضامین میں نے اسی وقت پڑھ لیے تھے جب یہ ویب سائٹ پر شائع ہوئے تھے۔ ایک تحریر تو اب تک نہیں بھولتی ’’محرّم تو سب کا ہوتا تھا‘‘، حسنین جمال نے قلم توڑ دیا تھا۔ پڑھ کر بےساختہ فون کیا اور داد دِی۔ حسنین منکسرالمزاج ہے، شرماتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا، ’’یہ نو مضامین کی سیریز کا حصہ ہے جو محرّم کے حوالے سے مختلف موقعوں پر لکھے۔ یہ مجموعہ الگ سے شائع ہو گا۔‘‘ کبھی محرّم پر لکھنے بیٹھتا ہوں تو حسنین جمال کی یہ تحریر یاد آ جاتی ہے، خدایا اس سے بہتر اب کیا لکھا جائے گا۔ کتابوں کے سرورق پر رائے عموماً مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہے مگر اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے۔ یہ سچ ہے کہ حسنین جمال نوجوان لکھنے والوں میں صف اوّل کے لکھاری ہیں۔ صرف اِن سے ایک گلہ ہے کہ اپنی تحریر میں بعض اوقات غیرضروری طور پر انگریزی کے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں، شاید یہ آج کے دَور کی ضرورت ہو، مگر میں اس ’کارل مارکس‘ کو یہی مشورہ دوں گا کہ اس سے اجتناب کرے اور اگر کہیں انگریزی کا لفظ لکھنے کی ضرورت ہو تو اسے یوں استعمال کرے جیسے یار لوگ با دلِ نخواستہ مانع حمل کے نسخے استعمال کرتے ہیں۔
(یاسر پیرزادہ)
اور تم کیا جانو یہ داڑھی والا کون ہے! شکل سے فرانسیسی سید لگتا ہے ، عقل سے سپینش فلسفی نظر آتا ہے اور تحریر سے کسی ایرانی بادشاہ کا مصاحب اور کاتب ہے ۔ حضت صاحب جناب حسنین جمال مجھے بہت محبوب ہیں ۔ ہمارا اِن کا یارانہ 2010ء میں ہوا اور تاحال جاری و ساری ہے، ورنہ اِن کی منڈلی کے باقی سب احباب رفتہ رفتہ بلاک کی نذر ہو چکے ہیں اور حسنین سے صدقہ جاریہ کی دوستی صرف اِن کی چلبلی تحریروں اور محبتی مزاج کے سبب ہے ۔ بہت زیادہ سیانے بھی نہیں بنتے اور یاروں کے یار رہتے ہیں ۔ داڑھی والا، اِن کی کتاب آئی تو ہم نے بک کارنر کے گگن میاں کو تُرنت فون گھمایا کہ بھئی ہمیں تین کاپیاں شتاب بھیجیو ۔ ایک اپنے لیے اور دو اپنے منکر نکیروں کے لیے۔ اِدھر حسنین بھائی نے بقلم خود ہمارے کرونا کو پس انداز کر کے ایک کاپی لکھ کر عنایت کر دی۔ اور یہی کاپی ہم نے رات بھر جاگ کر پڑھی کہ اِن دنوں نہ انگ چیناں نہ نیند نیناں والا معاملہ چل رہا ہے ۔ پہلا مضمون اُن کے اپنے اوپر ہے اور آگے جگ بیتیاں اور جگ علتیں ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک مضمون دل کو گدگداتا چلا جاتا ہے۔ حسنین بھائی جیسے دل کے مجذوب ہیں ویسے اِن کی تحریریں سالک ہیں۔ آپ پڑھیں گے تو سر دھنیں گے۔
(علی اکبر ناطق)
حسنین اپنے حلیے، اپنے خیالات، اور اپنے اظہار کے حوالے سے سب سے جدا ہے، اور سب سے جدا ہونا اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ تخلیق کا اولین نکتہ لگے بندھے سٹرکچر اور پامال اسلوب سے باہر نکلنا ہے اور یہی باہر نکلنا لوگوں کو چونکا دیتا ہے، انھیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکالتا اور ان پر سوچ کے نئے در کھولتا ہے۔ جب اس کی کتاب ’’داڑھی والا‘‘ ملی تو مجھے حقیقی خوشی ہوئی۔ ایک نظر میں ہی اس کے اسلوب کی سادگی (اور پُرکاری)، بے ساختگی اور موضوعات کی رنگا رنگی قاری کا من موہ لیتی ہے۔
(شاہد صدیقی)
اطمینان سے اور آہستہ آہستہ حسنین جمال کی کتاب ’’داڑھی والا‘‘‘ کا مطالعہ شروع کیا ہے اور یہ واقعی ٹکڑے ٹکڑے کر کے چائے کے ساتھ، سہ پہر ڈھلتے وقت یا رات کے خاموش پچھلے پہر پڑھنے والی کتاب ہے۔ چونکہ اس میں زندگی کا گہرا اور حسّاس مشاہدہ ہے، ایک مسحورکن رومانیت بھی اور ایک ارفع زندگی گزارنے کے گُر بھی۔ ایک منفرد اسلوب اور اندازِ بیاں اور بہت سی ایسی باتیں جو ایک مطمئن اور مسرور رُوح کی نشاندہی کرتی ہیں۔
(اسامہ صدیق)
