Chaalay aur Karvatein - Buy Online | Book Corner

CHAALAY AUR KARVATEIN چھالے اور کروٹیں

Inside the book
CHAALAY AUR KARVATEIN

PKR:   1,500/- 750/-

Author: QUDDUS SEHBAI
Binding: hardback
Pages: 352
ISBN: 978-969-662-607-7
Categories: SHORT STORIES
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

میرا نام قدوس صہبائی ہے۔ میں 1910ء میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوا جو قندھار (افغانستان) سے ہندوستان آیا تھا۔ پہلے 20 سال دین اور قرآن کی تعلیم حاصل کی کیوں کہ زبردستی کرائی گئی تو میں باغی ہو گیا اور فوج میں افسر بننے کی بجائے انگریز فوج کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اشتراکی نظریہ اپنا لیا۔ لکھنا پڑھنا شروع کر دیا اور صحافی، ادیب اور سیاست دان بن گیا۔ 25-24 سال کی عمر میں اخباروں اور جریدوں کا ایڈیٹر بن گیا۔ سیاست شروع کر دی اور کئی دفعہ جیل گیا۔ جیل میں 10- 12 افسانوں کی کتابیں لکھیں۔ بےشمار مضمون لکھے۔ پورا ہندوستان گھومتا رہا۔ جوانی کے شوق پورے کیے۔ عشق کیا، شادیاں کیں، در بدر کی نوکری کی اور پاکستان آ گیا اور اخباروں اور کتابوں کے درمیان عمر گزار دی۔ کئی دوست بنائے جو مجھ سے بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ سب اچھے اور سچے لوگ تھے۔ سعادت حسن منٹو کے اصرار پر اپنی سرگزشت لکھی جو ’’میری رانی میری کہانی‘‘ کے عنوان سے چَھپ گئی۔ 1985ء میں پانچ بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔

قدوس صہبائی اُس افسانوی آرٹ سے بہت کچھ دُور ہیں جس میں باتیں زیادہ ہوتی ہیں اور افسانہ کم، اکثر افسانہ نویس اس فنی مرض میں بُری طرح مبتلا ہیں۔ شاید اسی لیے مجھے قدوس صہبائی کے افسانوں کی شدید افسانویت بہت پسند ہے۔ بس وہ کہانی کہتے چلے جاتے ہیں جس میں کردار حرکت کرتے ہیں... جسمانی اور مادی حرکت... محض ذہنی ورزش نہیں... قدوس صہبائی ’’گفتار و کردار‘‘ دونوں کے غازی ہیں۔ ایک ہندوستانی ریاست (بھوپال) کے باشندے ہیں اور اسی ریاستی رعایا کے جذبات و احساسات کے ترجمان بن کر جیل بھی جا چکے ہیں اور کبھی معافی مانگ کر جیل سے چُھوٹے بھی نہیں۔ روزمرہ زندگی میں کم باتیں کرتے ہیں اور وہ بھی صاف اور بےدھڑک، پھر طُرّہ یہ کہ پٹھان ہیں، کم گو ہیں لیکن فیصلہ دو ٹوک دیتے ہیں۔ آپ یہ تمام اوصاف اُن کی کہانیوں میں بھی دیکھیں گے۔
(کرشن چندر)

قدوس صہبائی کے افسانوں میں ایک خصوصیت یہ امتیازی درجہ رکھتی ہے کہ ایک ناقابلِ فہم فارم اور ذہنی اُلجھنوں میں ان کا قلم ان کے بعض ہم عصروں کی طرح اُلجھ اُلجھ کر افسانوں کو الفاظ کا ایک معمہ یا ایک فلسفیانہ خطبہ یا کسی پیشہ ور واعظ کی تقریر نہیں بنا دیتا، وہ تفصیلات لکھنے میں کم مشاق نہیں ہیں۔ نفسیاتی تحلیل کا بھی ان کے افسانوں میں مناسب حصہ موجود ہے لیکن قدیم افسانہ نویسی کی طرح ان کا افسانہ پلاٹ، واقعات نگاری اور نفسی تحلیل میں صحیح صحیح تکمیل تک پہنچ جاتا ہے اور ایسا شاہکار بن جاتا ہے جو ترقی پسند ادب کے لیے بھی باعثِ فخر رہے گا اور اُردو دَوامی اَدب میں بھی یادگار رہے گا۔
(پروفیسر نجیب اشرف ندوی)

RELATED BOOKS