Cairo Trilogy: Bayn al-Qasrayn, Qasr al-Shawq, Al-Sukkariyya | Urdu | 3 Volumes | Box Set

CAIRO TRILOGY: BAYN AL-QASRAYN, QASR AL-SHAWQ, AL-SUKKARIYYA | URDU | 3 VOLUMES | BOX SET قاہرہ ٹرائلوجی: بین القصرین، قصر الشوق، السکریۃ | اردو | تین جلدیں

CAIRO TRILOGY: BAYN AL-QASRAYN, QASR AL-SHAWQ, AL-SUKKARIYYA | URDU | 3 VOLUMES | BOX SET

PKR:   6,000/- 4,200/-

Author: NAGUIB MAHFOUZ
Translator: YAQOOB YAWAR
Binding: hardback
Pages: 1176
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-684-8
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL ARABIC LITERATURE WORLDWIDE CLASSICS TRANSLATIONS NOBEL WINNERS
Publisher: BOOK CORNER

نجیب محفوظ (11 دسمبر 1911 — 30 اگست 2006) قاہرہ میں پیدا ہوئے اور سترہ برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ جب ان کی پہلی تصنیف شائع ہوئی تو اُس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔ انھیں 1988 میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ عرب دنیا میں چھے شخصیات کو انفرادی حیثیت میں نوبیل انعام دیا گیا، جس میں ادب کا واحد نوبیل انعام ان کے حصے میں آیا تھا۔ اس موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا، ’’مجھے یہ تو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن عربی کے کسی ادیب کو نوبیل انعام ضرور دیا جائے گا، لیکن مجھے دیا جائے گا، اس کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘

پچاس کی دہائی میں وہ معروف ادیب بن چکے تھے اور اِسی دہائی میں ان کے تین ناولوں پر مشتمل معروف ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ شائع ہوئی۔ اس کا پہلا حصہ ’’بین القصرین‘‘، دوسرا حصہ ’’قصر الشوق‘‘ اور تیسرا حصہ ’’السكريۃ‘‘۔ معاصر ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس ٹرائلوجی کے بارے میں کہا، ’’اس نے افسانوی ادب کو اس درجۂ کمال، حُسن، گہرائی، باریکی اور جادوئی تاثیر عطا کی ہے جس تک اس سے پہلے کوئی مصری ادیب نہیں پہنچ سکا تھا۔‘‘ اس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب نے پانچ سال تک کچھ نہیں لکھا اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا، ’’اب وہ دنیا ہی ختم ہو چکی ہے جسے میں لکھتا تھا۔‘‘ اسے انقلاب مخالفت بھی تصور کیا گیا۔

لیکن شاید ایسا نہیں تھا کیونکہ جب ’’الاہرام‘‘ نے ان کا ناول ’’جبلاوی کے بیٹے‘‘ شائع کرنا شروع کیا تو شدید تنازعات پیدا ہو گئے۔ یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ معاملہ اس ناول کی اشاعت روکنے تک آ گیا، جس کے بعد اخبار کے ایڈیٹر نے کرنل ناصر سے، جو اُس وقت تک صدر جمال عبد الناصر بن چکے تھے، سے مدد لی اور اس طرح اس ناول کی اشاعت مکمل ہو سکی۔

نجیب محفوظ نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن انھوں نے غیر تدریسی ملازمتوں کو ترجیح دی۔ مذہبی امور کی وزارت میں بھی رہے اور آرٹ کی سنسر شپ کے شعبے کے ڈائریکٹر بھی۔ وہ اپنے اسلوب میں رمزیت اور تہہ داری کی ایک منفرد مثال تھے، اور اسی بنا پر کچھ لوگ انھیں انیسویں صدی کے صاحبِ اسلوب مصنّفین میں شمار کرتے ہیں۔

انھوں نے تقریباً ستر برس کے ادبی سفر میں 35 ناول، 350 سے زائد کہانیاں، 26 فلمی سکرپٹ، مصری اخبارات کے لیے سیکڑوں کالم اور سات ڈرامے تحریر کیے۔ ان کی بہت سی تحریروں کو مصری اور بین الاقوامی فلموں میں ڈھالا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی ایک کلیات پانچ جلدوں میں شائع ہوئی، جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے، اور یہ ان کا نصف کام بھی نہیں۔

RELATED BOOKS