Band Darvazon Ka Shahr - Buy Online | Book Corner

BAND DARVAZON KA SHAHR بند دروازوں کا شہر

BAND DARVAZON KA SHAHR

PKR:   2,500/- 1,750/-

Author: SHAFQAT NAGHMI
Binding: hardback
Pages: 422
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-708-1
Categories: NOVEL
Publisher: BOOK CORNER

کسی بھی ناول نگار کا اصل امتحان اس کے دوسرے ناول پر ہوتا ہے کہ پہلے ناول میں اُس کے تجربے اور ذاتی زندگی کی تپسیا اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ اُس کے ساتھ ہی مطالعے کی گونج بھی کہانی کی جدلیات میں سے جھانکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ دوسرے ناول میں ناول نگار اپنے پہلے تجربوں کی یا تو توسیع تلاش کرتا ہے یا پھر نئے زمانوں اور نئی دنیاؤں کی تلاش کرتا ہے۔
شفقت نغمی کے دوسرے ناول میں دونوں پہلوؤں کی طرف اشارے ملتے ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی تکمیل کے بعد اپنی دوسری زندگی میں آگہی کی نئی سمتوں کے لیے بیتاب دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا ناول ہماری قومی اور سیاسی زندگی کے نشیب و فراز کا فکری آشوب نامہ محسوس ہوتا تھا، جبکہ دوسرا ناول ہماری تہذیبی زندگی کے فیبرک میں گندھے ہوئے انسانی سانحوں کی تفہیم و تشکیل کے لیے دلچسپ بیانیہ تخلیق کرتا ہے۔ شفقت نغمی اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں پاکستان میں کہاں کہاں خدمات انجام دیتے رہے، اس کی مکمل معلومات سے میں واقف نہیں ہوں، اس لیے نہیں جانتا کہ سندھ میں انھوں نے کتنا وقت گزارا۔ اس تجربے کے بغیر سندھ سے اس ناول کا خمیر نہیں اٹھایا جا سکتا۔
کہانی میں سندھ کی لوک داستان ’’عمر ماروی‘‘ کے باطن سے جدید دور کے پاکستان کے فکری اضطراب کے ماخذ تلاش کیے گئے ہیں۔ سندھ اپنی تہذیبی گہرائی اور تاریخی تموّج کی وجہ سے کہانیوں کا ایک جہان اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ شفقت نغمی کی کہانی اور کردار تاریخ کی گونج اور تہذیبی معنویت کی بنیاد پر ہر زمانے میں اپنا استعارہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک زمانے میں کئی زمانوں کو سرئیلزم کی تکنیک کو چھوتے ہوئے زندگی کے دشتِ امکاں کو تہ در تہ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس سفر میں ماروی کا لینڈ سکیپ اور اس کی ثقافتی سچّائیاں کشتیوں، جھیلوں اور ملّاحوں کے ساتھ ساتھ ہماری ہم سفر ہوتی ہیں۔ یہ ناول اپنی کہانی کے سفر میں دلچسپ اس لیے ہے کہ کہانی کو تفصیلات کے تسلسل سے مضبوط تانے بانے سے تخلیق کیا گیا ہے۔
شفقت نغمی کا احساس اور فکر اپنے زمانے اور اس کے تضادات سے مُسلسل الجھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اپنے ابواب کے عنوانات کے ذریعے ہماری اٹھتّر سالہ تاریخ کی کروٹوں کو علامتی انداز سے بیان کرتے ہوئے انسانی خاموشی اور چیخ کے درمیان کی ناقابلِ بیان اذیّت کا اظہار اس کا موضوع بنتا ہے۔ شفقت نغمی کی زندگی کے تجربات اتنے تلخ تو نہیں ہو سکتے لیکن اپنے تجربوں کی زیریں سطحوں میں جو کچھ انھوں نے جذب کیا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ اس طرح یہ ناول بھی پاکستان کی سیاسی اور ثقافتی زندگی کی علامتوں اور بنیادی تصوّرات کی تعبیریں لیے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ تخلیقی تحرّک اتنا آسان نہیں ہے، تاہم انھوں نے ایک زمینی کہانی سے ناول کا خمیر اٹھایا ہے۔ اس لیے اس میں ہمارے توہّمات، ہماری خود ساختہ اخلاقی اقدار اور ہمارے تمام تر تعصّبات کرداروں کی شکل میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو بات وہ کہنا چاہتے ہیں، اسے سطحی بیانیہ کی نذر نہیں کیا۔ سادہ بیانیہ کے پیکر کے نیچے اظہار کی مختلف تکنیکوں اور جدلیات کو آپس میں ایسے سمویا ہے کہ بالکل نئی تکنیک وجود میں آ گئی ہے۔ مثلاً صرف ایک اقتباس سے پاکستان کے تاریخی اضطراب کو ایک طلسم میں کیسے تبدیل کیا ہے، اس سے ناول کی بُنت اور بنیاد واضح ہو جائے گی۔
’’میں ناموں کو پڑھنے لگی۔ ہر نام کے ساتھ میرے اندر سے کچھ گزرا—ایک جھماکا، ایک دبی ہوئی پُکار، ایسی یاد جو میری نہ تھی، مگر میرے خون میں اتر گئی۔ ایک عورت کا نقش اُبھرا جو چکّی پِیس رہی تھی کہ دروازہ ٹوٹا— اور پھر وہ نقش کسی نے بےرحمی سے مٹا دیا۔ ایک نوجوان کی نیند دکھائی دی جو ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسے خوابوں سمیت اٹھا لیا گیا۔ پھر ایک شخص سامنے آیا جس نے انکار کیا— ہڈیاں ٹوٹیں، مگر انکار نہ ٹوٹا۔ میں نے نگاہیں ہٹا لیں—‘‘
اب یہ اقتباس کس کس زمانے کی تصویر دکھا رہا ہے، مجھے کچھ بھی کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قاری اِن امیجز کو اچھی طرح جانتا ہے اور اپنی یادداشت سے کھرچ نہیں سکتا۔ شفقت نغمی نے اسی طرح تجرید، سرئیلزم اور اظہاریت کا سہارا لے کر سامنے کی صورتِ حال کو فکری گہرائی سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔
میرا تاثر یہ ہے کہ اُن کا یہ دوسرا ناول بھی ہمارے دُکھوں کی گرہیں کھولے گا اور اُن ناولوں میں شمار ہو گا جن کی جڑیں ہماری تاریخ و تہذیب میں معنی دے رہی ہیں۔ یہ ناول بھی تحقیق و تالیف میں ریفرنس کے طور پر استعمال ہو گا کہ آج کے قاری کو سچّائی کسی بھی صورت میں چاہیے اور یہ ناول سچّائی کی تلاش میں سندھ کی سرزمین کے رگ و ریشے سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ میں شفقت نغمی کو اس سفر پر مُسلسل ہمّت کے ساتھ چلنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
(اصغر ندیم سید)

RELATED BOOKS