Amn Mumkin Hai

AMN MUMKIN HAI امن ممکن ہے

Inside the book
AMN MUMKIN HAI

PKR:   1,200/- 840/-

Author: FREDRIK S. HEFFERMEHL
Translator: WAJAHAT MASOOD
Binding: hardback
Pages: 222
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-692-3
Categories: ESSAYS TRANSLATIONS CURRENT AFFAIRS INTERNATIONAL RELATIONS NONFICTION PEACE STUDIES
Publisher: BOOK CORNER

فریڈرک ا یس ہیفرمیہل 11 نومبر 1938ء کو ناروے میں پیدا ہوئے۔ اوسلو یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔ وہ ناروے کے معروف قانون دان، مصنف اور امن کے فعال کارکن تھے۔ انھوں نے 1965ء سے 1982ء تک ایک وکیل اور سرکاری ملازم کے طور پر کام کیا۔ وہ 1980ء سے 1982ء تک نارویجن ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کے پہلے سیکرٹری جنرل رہے۔ بعد ازاں انھوں نے امن اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک مصنف اور کارکن کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ وہ ناروے کی امن کونسل کے اعزازی صدر، اور بین الاقوامی امن بیورو کے نائب صدر رہے۔ فریڈرک ہیفرمیہل جوہری ہتھیاروں کے خلاف وکلا کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن کے منتخب نائب صدر تھے۔ انھوں نے 21 دسمبر 2023 کو وفات پائی۔

---

وجاہت مسعود 1966ء میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ایم اے کیا۔ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی سے انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اور یورپی قانون میں ایل ایل ایم کی سند حاصل کی۔ 1994ء میں جمہوری کمیشن برائے انسانی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ پاکستانی دیہات میں بارہ برس انسانی حقوق کی تعلیم کا فرض ادا کیا۔ پیشہ ورانہ طور پر تدریس اور صحافت سے منسلک ہیں۔ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے ہیں اور پاکستان ٹیلی ویژن پر اہلِ ثقافت سے انٹرویو کرتے ہیں۔ صحافت کے شعبے میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے 2015ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا۔

---

’’امن ممکن ہے‘‘ ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو امن کی تحریک سے براہِ راست وابستہ نہیں ہیں۔ یہ لوگ ’’جنگیں ختم کرنے‘‘ کے نعرے میں کشش ضرور محسوس کرتے ہیں لیکن قریب قریب ایسی ہی شدّت سے یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ مقصد حقیقی دنیا میں کچھ زیادہ قابلِ عمل نہیں ہے۔
اس کتاب میں بہت سے معروف امن پسند اہلِ دانش نے امن کے لیے اپنی کامیاب اور متنوع کوششوں کی روشنی میں اپنے ذاتی تجربات بیان کیے ہیں۔ ان تحریروں میں مایوسی اور الم ناکی کی عکاسی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے جنگ اور امن کے مسائل سے نمٹنے کے عملی ذرائع اور امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کے لکھنے والے صاحبانِ علم میں سے بیشتر کا خیال ہے کہ جس روز انسانوں نے متحد ہو کر امن کو انسانی بقا کی بنیادی ترجیح قرار دینے کا فیصلہ کر لیا، اس دن دنیا کی کوئی طاقت کرۂ ارض پر قیامِ امن کو نہیں روک سکے گی۔
اس کتاب کی متعدد تحریروں میں پڑھنے والوں کو قیامِ امن کے لیے ان علانیہ اور پس پردہ کوششوں سے متعارف کرایا گیا ہے جنھیں حالیہ برسوں میں ’’نئی سفارت کاری‘‘ کی اصطلاح بخشی گئی ہے۔ ایسی سفارت کاری میں امن کے برہنہ پا اور تہی دست علمبردار گلی کوچوں میں بسنے والے سادھارن اور گمنام امن پسندوں کی آواز اور تحفظات کو ان راہداریوں اور ایوانوں تک لے جاتے ہیں جہاں تجربہ کار اور پیشہ ور سفارت کار ہماری دنیا کو چلانے کے لیے اہم فیصلے کرتے ہیں۔
چونکہ ایسی متبادل سفارت کاری کا بیشتر کام پس منظر میں رہتے ہوئے کیا جاتا ہے، اس لیے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہماری دنیا کے بظاہر عام شہری امن کا عالمی لائحہ عمل مرتب کرنے میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیسے بظاہر ’’ناممکن‘‘ مرحلے طے ہو رہے ہیں۔ دو، صرف دو مثالیں لیجیے۔ امن کے لیے سرگرم کارکنوں نے دنیا میں بارودی سرنگوں پر پابندی کا جھنڈا اٹھایا، نیز بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام کا بِیڑا اٹھایا۔ روایتی انداز سے سوچنے والے تجربہ کار ماہرین کی اکثریت کا خیال تھا کہ یہ دونوں مقاصد ناقابلِ حصول ہیں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا ان دونوں اہداف کے لیے کوشش کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہو گا۔ زیرِ نظر کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ یہ دونوں اہداف نہ صرف یہ کہ حاصل کر لیے گئے، بلکہ یہ بھی کہ ان کامیابیوں تک پہنچنے میں صرف پانچ برس لگے۔
زیرِ نظر کتاب مئی 1999ء کی ہیگ کانفرنس اپیل برائے امن کے لیے پہلے سے تیار کردہ مواد کا حصہ ہے۔ آج سِول سوسائٹی 21ویں صدی کے لیے امن اور انصاف کا ایک نیا ایجنڈا مرتب کر رہی ہے۔ چونکہ تمام جدید ہتھیار بدیہی طور پر تمام انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اس لیے آج روایتی فوج ہمیں تسلی بخش سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی باوجود اس کے کہ ہم سب انسان فوج اور ہتھیاروں کے لیے بہت بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس کتاب کے مرتب فریڈرک ایس ہیفرمیہل کا پختہ یقین ہے کہ جس دن انسانوں نے بے پناہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود پائیدار امن کے لیے جدید ہتھیاروں کے ناقابلِ بھروسا ہونے کی حقیقت سمجھ لی، اس روز دنیا بھر میں کوئی طاقت امن کی تحریک کا راستہ نہیں روک سکے گی۔
’’فوج کی پیش قدمی سے کہیں زیادہ ناقابلِ مزاحمت وہ خیال ہے جس کا وقت آ چکا ہو۔‘‘

RELATED BOOKS