Suleiman Aali-shan - Buy Online | Book Corner

SULEIMAN AALI-SHAN سلیمان عالیشان

Inside the book
SULEIMAN AALI-SHAN

PKR:   1,500/- 600/-

Author: HAROLD LAMB
Tag: 5007
Binding: hardback
Pages: 486
ISBN: 978-969-662-320-5
Categories: HISTORY BIOGRAPHY TRANSLATIONS BOOKS ON SALE
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

افسانہ نگار، ناول نگار اور فلمی منظر نگار ہیرلڈ البرٹ لیم (Harold Albert Lamb) یکم ستمبر 1892ء کو الپائن، نیوجرسی، امریکا میں پیدا ہوئے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں زمانۂ طالب علمی ہی سے انھیں مشرق اور مشرقِ قریب کی تاریخ، روایات اور تہذیب کے مطالعے سے گہری دل چسپی تھی۔ 1916ء میں انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ مشرقی اقوام کی تاریخ و تہذیب کے اسی مطالعے اور تحقیق سے اخذ کیے گئے ان کے ابتدائی افسانے رسالہ Adventure میں شائع ہوئے۔ اس رسالے کے مدیر آرتھر سلیون ہافمین، جنھوں نے لیم کی صلاحیت کو سب سے پہلے پہچانا، ان کے بارے میں کہا، ’’پہلے وہ عالم ہیں، اس کے بعد عمدہ کہانی کار!‘‘ ہافمین نے ان کی قوتِ تخیل، جوش و جذبے اور مشکلات کے سامنے ڈٹے رہنے کے عزم کو بھی ہمیشہ سراہا۔ ہیرلڈ لیم کو بدیسی زبانوں سے غیرمعمولی شغف تھا۔ وہ فرانسیسی، لاطینی، چینی، فارسی اور عربی سے واقف تھے اور اپنی تحریروں میں استعمال ہونے والا بیشتر حوالہ جاتی مواد خود تلاش اور جمع کرتے تھے۔ اسی وسیع مطالعے نے ان کی تاریخی تحریروں کو ایک خاص استناد عطا کیا۔ 1927ء میں لیم نے چنگیز خان کی سوانح عمری لکھی۔ اس کتاب کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد اپنی توجہ بڑی حد تک افسانہ نگاری سے ہٹا کر تاریخ اور سوانح نگاری کی طرف مرکوز کر دی۔ اپنی وفات تک وہ متعدد سوانح عمریاں اور مقبول تاریخی کتابیں تحریر کر چکے تھے۔ دو جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب The Crusades کی کامیابی سے متاثر ہو کر معروف فلم ساز Cecil B. DeMille نے انھیں صلیبی جنگوں سے متعلق اپنی فلم کے لیے مشیرِ تاریخ مقرر کیا۔ بعدازاں لیم نے کئی دوسری فلموں کے لیے بھی منظرنامہ نگار کی حیثیت سے کام کیا۔ ہیرلڈ لیم کی نثر سادہ، رواں اور اپنے ہم عصر مصنّفین سے نمایاں طور پر مختلف تھی۔ ان کی کہانیاں گہری تاریخی تحقیق پر مبنی ہوتی تھیں اور ان میں اکثر ایسے حقیقی تاریخی کردار سامنے آتے تھے جو اُن کے مغربی قارئین کے لیے نسبتاً اجنبی اور انوکھے ہوتے تھے۔ تاریخ کو خشک واقعات کے بجائے جیتی جاگتی انسانی داستان میں ڈھال دینا اُن کی تحریر کا ایک نمایاں وصف تھا۔ ہیرلڈ لیم 9 اپریل 1962ء کو روچیسٹر، نیویارک میں وفات پا گئے، تاہم تاریخ کو داستان کی دل کشی کے ساتھ پیش کرنے والی ان کی تخلیقات آج بھی انھیں مقبول تاریخی ادب کے ممتاز مصنّفین میں جگہ دیتی ہیں۔

امریکی مؤرخ، فلمی منظرنگار، افسانہ نگار اور ناول نگار ہیرلڈ البرٹ لیم (1892 -1962ء) الپائن، نیوجرسی (امریکا) میں پیدا ہوئے۔کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اس دوران ایشیا کی قوموں اور تاریخ میں دلچسپی لینا شروع کی۔ لیم نے شروع سے ہی اپنی تحریر کو ذریعۂ معاش بنایا۔ جلد ہی معروف ایڈونچر میگزین کے لیے لکھنا شروع کر دیا اور انیس سال تک اپنی افسانہ نگاری کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 1927ء میں چنگیزخان کی سوانح عمری تحریر کی جس کی کامیابی کے بعد اپنی توجہ افسانہ نگاری سے ہٹا کر دیگر اصناف پر مرکوز کردی۔ اپنی وفات تک انہوں نے بے شمار سوانح عمریاں اور مقبول تاریخی کتابیں تحریر کر ڈالیں۔ دو جلدوں پر مشتمل کتاب"Crusades"کی کامیابی سے متاثر ہو کر سیسل بی ڈی ملی نے لیم کو صلیبی جنگوں سے متعلق فلم کے لیے اپنا مشیر مقرر کیا اور دوسری کئی فلموں میں بطورسکرین رائٹر استعمال کیا۔ لیم فرانسیسی، لاطینی، فارسی اور عربی زبانیں روانی سے بول سکتے تھے۔ لیم کی نثر سادہ اور اس کے ہمعصر مصنّفین سے صریحاً مختلف تھی۔ کہانیاں گہری تحقیق پر مبنی ہوتی تھیں اور تحریروں میں بسا اوقات ایسے حقیقی تاریخی کرداروں کی عکاسی ہوتی تھی جو ان کے مغربی قارئین کے لیے انوکھے ہوتے تھے۔ انہوں نے غیرملکی یا نامانوس ثقافتوں کی منفی خاکہ کشی کے سہل پسندانہ رجحان سے اجتناب کیا۔ ان کے بہت سے ہیرو منگول، ہندوستانی، رُوسی یا مسلمان تھے۔ مزیدبرآں وہ غیرملکی یا تہذیب سے ناآشنا تھے اور ان میں سے بیشتر ماہر شمشیرزن اور جنگجو تھے۔ پاک و ہند میں ہیرلڈ لیم کی کئی کتابوں کو اُردو زبان میں منتقل کیا گیا۔ صلاح الدین ایوبی، امیرتیمور، چنگیز خان، سکندراعظم، سلیمان عالیشان، بابر دی ٹائیگر، ہینی بال، نور محل، قسطنطنیہ، کورش اعظم، منگول اور ان کا سردار، تاتاریوں کی یلغار اور خلت قزاق شاندار اُردو تراجم کے باعث خاصی مشہور ہوئیں۔

RELATED BOOKS