Sab Kuch Mumkin Hai - Buy Online | Book Corner

SAB KUCH MUMKIN HAI سب کچھ ممکن ہے

SAB KUCH MUMKIN HAI

PKR:   600/- 300/-

Author: MEHDI FAKHARZADA
Translator: SAGHIR AHMED
Editor: SYED ASHRAF HUSSAIN RIZVI
Binding: hardback
Pages: 208
ISBN: 978-969-662-139-3
Categories: CHARACTER BUILDING TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER

1950ء میں جب ایک بتیس سالہ ایرانی شخص نے میٹ لائف نیویارک میں لائف انشورنس سیلزکام کے لیے درخواست دی تو ڈسٹرکٹ سیلز منیجر میکس شائولاس نے کہا: ’’اوہ خُدا ! یہ توصحیح طرح سے انگلش بھی نہیں بول سکتا۔ شاید یہ ایرانی نوجوان نیو یار ک سٹی میںبجلی میٹرز پڑھنے کا کام تو کر سکے لیکن لائف انشورنس بیچنا اِس کے بس کی بات نہیں ہے۔ ‘‘میکس نے پوچھا: ’’ اب تک تم نے کون سا مستقل کام کیا ہے ؟‘ ‘’’ میں نے الاسکا میںایک لانڈری میں کام کیا ہے اور جب میں طالب علم تھا تو کچھ اور عارضی سے کام بھی کیے ہیں۔‘‘ ’’ تو اب تم لائف انشورنس کمپنی میں کیوں اپلائی کر رہے ہو جب کہ تم اِس کام کے بارے کچھ بھی نہیں جانتے ؟‘‘ میکس نے پوچھا۔ ’’آپ مجھے لائف انشورنس کے بارے میں کتابیں دیں، میں ایک ہفتے بعد آئوں گا اور آپ کے تمام سوالوں کاجواب دوں گا۔ سب کچھ ممکن ہے مسٹر میکس!‘اُس نوجوان نے اعتماد سے جواب دیا۔میکس نے پڑھنے کے لیے اُسے پانچ کتابیں دیں۔ آج میٹ لائف اپنے تمام سیلز پرسنزمیں سے اُس شخص کواپنے ٹاپ پروڈیوسر کا مقام دیتی ہے۔ اُس کے اثاثہ جات لاکھوں میں نہیںبلکہ کروڑں میں ہیں۔ اُس کا نام ہے مہدی فخر زادہ اور لوگ بہت عزت سے اُسے مہدی یا مسٹر مہدی کے نام سے پکارتے ہیں۔ میٹ لائف میں پانچ سال کام کرنے کے بعد مہدی نے 1960ء میں پہلی مرتبہ ملین ڈالرز راؤنڈ ٹیبل کا اعزاز حاصل کیا اور اُس کے بعد سے آج تک وہ اپنا یہ اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہے اور ایک سال میں 27ملین (دو کروڑ ستر لاکھ) ڈالرز مالیت کی لائف پالیسیز فروخت کر کے سیل کا نیا ریکارڈ قائم کر چکا ہے، ہر سال اِس مالیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اب اُس کی نگاہیں سو کروڑ پر ہیںکیونکہ اُس کے اپنے الفاظ کے مطابق ’سب کچھ ممکن ہے!‘۔

سب کچھ ممکن ہے | EVERYTHING IS POSSIBLE
نامور ایوارڈ یافتہ سیلز ایجنٹ مہدی فخر زادہ کی ورلڈ بیسٹ سیلر کتاب
مترجم: صغیر احمد | نظرِ ثانی: سیّد اشرف حسین رضوی (سابق زونل ہیڈ)

---

1950ء میں جب ایک بتیس سالہ ایرانی شخص نے میٹ لائف نیویارک میں لائف انشورنس سیلزکام کے لیے درخواست دی تو ڈسٹرکٹ سیلز منیجر میکس شائولاس نے کہا:
’’اوہ خُدا ! یہ توصحیح طرح سے انگلش بھی نہیں بول سکتا۔ شاید یہ ایرانی نوجوان نیو یار ک سٹی میںبجلی میٹرز پڑھنے کا کام تو کر سکے لیکن لائف انشورنس بیچنا اِس کے بس کی بات نہیں ہے۔ ‘‘
میکس نے پوچھا: ’’ اب تک تم نے کون سا مستقل کام کیا ہے ؟‘ ‘
’’ میں نے الاسکا میںایک لانڈری میں کام کیا ہے اور جب میں طالب علم تھا تو کچھ اور عارضی سے کام بھی کیے ہیں۔‘‘
’’ تو اب تم لائف انشورنس کمپنی میں کیوں اپلائی کر رہے ہو جب کہ تم اِس کام کے بارے کچھ بھی نہیں جانتے ؟‘‘ میکس نے پوچھا۔
’’آپ مجھے لائف انشورنس کے بارے میں کتابیں دیں، میں ایک ہفتے بعد آئوں گا اور آپ کے تمام سوالوں کاجواب دوں گا۔ سب کچھ ممکن ہے مسٹر میکس!‘اُس نوجوان نے اعتماد سے جواب دیا۔میکس نے پڑھنے کے لیے اُسے پانچ کتابیں دیں۔ آج میٹ لائف اپنے تمام سیلز پرسنزمیں سے اُس شخص کواپنے ٹاپ پروڈیوسر کا مقام دیتی ہے۔ اُس کے اثاثہ جات لاکھوں میں نہیںبلکہ کروڑں میں ہیں۔ اُس کا نام ہے مہدی فخر زادہ اور لوگ بہت عزت سے اُسے مہدی یا مسٹر مہدی کے نام سے پکارتے ہیں۔ اُس کی کامیابیوں میں شامل ہے :
٭ کئی سال سے میٹ لائف کے ہزارہا سیلز پرسنزمیں سے ٹاپ پروڈیو سر
٭ 1967 ء سے ملین ڈالرز رائونڈ ٹیبل (MDRT)کا لائف لانگ ممبر
٭ ٹاپ آف دی ٹیبل ممبر اور ٹاپ آف دی ٹیبل بورڈ ممبر
٭ مسلسل پچیس سال تک نیشنل کوالٹی ایوارڈ یافتہ
٭ لیڈرز میگزین کا ایڈیٹوریل بورڈ ممبر
٭ ہر سال مختلف مما لک میں چالیس سے پچاس اجتماعات سے خطاب کرنے والا مؤثر مقرر
٭ امریکی صدر رونالڈ ریگن کے ساتھ مل کر سیلز ایگزیکٹیوز کلب نیویارک میں تقاریر،ایران سے امریکہ میں آیا ہوا ایک غیر ملکی تین عشروں میں کس طرح لکھ پتی اور لائف انشورنس انڈسٹری کا ایک لیجنڈ بن گیا ؟ اِس سوال کا جواب مہدی فخر زادہ نے اِن الفاظ میں دیا ہے’ میںصرف یہ یقین رکھتا ہوں کہ ’سب کچھ ممکن ہے!‘۔
مرحوم حاجی علی اصغر فخر زادہ کا سب سے بڑا بیٹا ’مہدی فخر زادہ‘ اپنی کامیابی کا کریڈٹ محنت، علمی طلب، مسلسل سیکھنا اور مستقل مزاجی کو دیتا ہے۔ کامیابی کے یہ زرّیں اصول مہدی کو اپنے والد سے وراثت میں ملے ہیں جو تہران میں پراپرٹی اور تعمیرات کا کام کیا کرتے تھے۔ حاجی علی اصغر نے ساری زندگی اپنے بچوں کے سامنے ایمانداری سے کاروبار کرنے اور دوسروں کی بے لوث مدد کرنے کا عملی مظاہر ہ کیا اور یہی وہ دو اہم اخلاقی اقدار ہیں جو ہمیشہ سے مہدی کی پیشہ ورانہ زندگی کا بھی عنوان رہی ہیں۔ حاجی علی اصغر تعلیم کو انسان کے عمل و کردار میںحقیقتاً دیکھنا چاہتے تھے، اِسی لیے اُنہوں نے ہائی اسکول پڑھائی کے بعد مہدی کو اپنے ساتھ کام میں شامل کر لیاتاکہ وہ نصابی آئیڈیاز کو اپنی سیرت و کردار سے ثابت کر سکے۔ کام کے ساتھ ساتھ مہدی نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور کالج آف لاء تہران سے قانون کی ڈگری حاصل کر لی۔ چونکہ اُس وقت ایران میں اعلیٰ تعلیم کا اہتمام نہیں تھا لہٰذا مہدی نے امریکہ کی ریاست اوتھا کی بریگھام یونیورسٹی میں مزید تعلیم کے لیے اپلائی کیا اور جب 1948ء میں وہ نیویارک پہنچاتو اُس کی راہ میں ایک سب سے بڑی رکاوٹ حائل تھی اور وہ تھی اُس کی انگلش زبان سے لا علمی۔ وہ بمشکل انگلش زبان بول اور سمجھ سکتا تھا اور اُسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ نیویارک سے اوتھا کیسے پہنچے !
تین دِن شدید مشکلات کے بعد وہ پوچھتا پوچھتا بس کے ذریعے اوتھا پہنچا تو نڈھال ہو کر بریگھام یونیورسٹی کے کمپاونڈ میں گِر پڑا کیونکہ تین دِن کے سفر میں اُس نے صرف دو وقت کاکھانا کھایا تھا اور اِس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سارا وقت انگلش زبان سیکھنے کی کتاب پڑھنے میں ہمہ تن مصروف رہا لیکن جب یونیورسٹی میں مہدی کا ایڈمیشن انٹرویو ہوا تو اُسے یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ’ تمہیں انگلش نہیں آتی !‘۔
اِس انکار سے مہدی بالکل بھی دِل برداشتہ نہ ہوا اور اُس نے فوراً ویمانگ ہائی اسکول میں انگلش لینگویج کلاس میں داخلہ لے لیا اور اگلا ایک سمسٹرانگلش سیکھتا رہا اور چار ماہ بعد اِس میں اِتنی مہارت حاصل کر لی کہ اُسے بریگھام یونیورسٹی کا ایڈمیشن ٹیسٹ اعزاز سے پاس کر کے داخلہ مل گیا۔ 1950ء میں اُس نے نہ صرف اعلیٰ درجے میں اپنی ماسٹر ڈگری مکمل کر لی بلکہ اُسے شاندار تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر یونیورسٹی آف واشنگٹن میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے اسکالر شپ بھی مل گیا۔
واشنگٹن یونیورسٹی میںپہلے ہی ہفتے اُس کی ملاقات آئس لینڈ سے آئی ہوئی۔ فوڈ ٹیکنالوجی کی ایک بہت خوبصورت طالبہ سِگرن فریڈکسڈر سے ہوئی اور وہ اُس کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ وہ ایک سرد ملک سے آئی انتہائی خوبصورت حسینہ تھی جبکہ مہدی ایک گرم ملک سے آیا گندمی رنگت کا اوسط شکل باشندہ تھا۔ معاملہ پروان چڑھتا نظر نہیں آ رہا تھا لیکن بقول مہدی ’سب کچھ ممکن ہے!‘۔
سِگرن نے اپنا ٹرانسفر کارنل یونیورسٹی نیو یارک کروا لیا، مہدی نے بھی اُس کی پیروی کرتے ہوئے اپنی رہائش نیویارک ہی منتقل کر لی اور بالآخر تین سال کی رومانس بھر ی جدوجہد رنگ لائی اور اُن دونوں کی شادی ہو گئی ۔ اب دونوں نیو جرسی رہتے ہیں، اُن کے تین جوان بیٹے، ایک بیٹی اور آٹھ پوتے اور نواسے ہیں۔ شادی کے بعد بھی سِگرن نیویارک کے ایک فوڈ پلانٹ میں کام کرتی رہی لیکن بعد ازاں گھریلو مصروفیات کی وجہ سے وہ جاب چھوڑ دی اورساری ذمہ داری مہدی کے ساتھ نبھائی۔
نیویارک میں محکمہ روزگار نے مہدی سے کہا،’تم لائف انشورنس کام کیوں نہیں کرتے؟‘ اور اُس نے میٹ لائف نیویارک کے ڈسٹرکٹ سیلز منیجر میکس شائولاس سے لائف انشورنس بارے پانچ کتابیں مستعار لیں اوراِس طرح اُس کا لائف انشورنس کیریئر شروع ہوا اور اب اُس کا شمار لائف انشورنس انڈسٹری کے انتہائی کامیاب ترین عالمی سیلز ایجنٹس میں ہوتا ہے۔
میٹ لائف انشورنس کمپنی میں مہدی کی پہلی جاب پالیسی ہولڈرز سے پریمیم اقساط وصول کرنے کی تھی اور چار سال بعد اُس کی سیلز ڈیپارٹمنٹ میں ٹرانسفر ہوئی جہاں اُس کا ٹارگٹ ایک ماہ میں کم از کم دو ہزار مالیت کی لائف انشورنس پالیسیز فروخت کرنا تھا۔ وہ ہر روز صبح چھ بجے اُٹھتا (اور اُس کا یہ معمول آج تک جاری ہے) اور ہر روز کوئی نئی کتاب پڑھ کر نئی ٹیکنیکس او رنئے آئیڈیاز سیکھتا۔ اُس نے مسائل کو ہمیشہ چیلنج سمجھ کر اپنے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اپنی تقاریر میں اُس نے اپنی کامیاب زندگی کا منشور اِن پانچ اقدار میں یوں بیان کیا ہے:
۱۔ ہمیشہ دیانت داری سے کام کریں۔
۲۔ ہمیشہ اپنے پراسپیکٹس اور لوگوں کے جذبات و مفادات کا احترام و خیال کریں۔
۳۔ ہمیشہ نئی کتابیں پڑھ کر اپنے علم و تجربات میں اضافہ کرتے رہیں۔
۴۔ محنت اور لگن سے کام کریں۔
۵۔ حالات و واقعات سے کبھی حوصلہ شکنی محسوس نہ کریں۔
میٹ لائف میں پانچ سال کام کرنے کے بعد مہدی نے 1960ء میں پہلی مرتبہ ملین ڈالرز راؤنڈ ٹیبل کا اعزاز حاصل کیا اور اُس کے بعد سے آج تک وہ اپنا یہ اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہے اور ایک سال میں 27ملین (دو کروڑ ستر لاکھ) ڈالرز مالیت کی لائف پالیسیز فروخت کر کے سیل کا نیا ریکارڈ قائم کر چکا ہے، ہر سال اِس مالیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اب اُس کی نگاہیں سو کروڑ پر ہیںکیونکہ اُس کے اپنے الفاظ کے مطابق ’سب کچھ ممکن ہے!‘۔
سب کچھ ممکن ہے
میں محترم صغیر احمد صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے لاجواب انگریزی کتاب "Everything is Possible" کا اُردو ترجمہ کرکے ایک عوامی خدمت کی ہے۔ یہ ترجمہ بہت عمدہ او رعام فہم ہے۔ اس طرح ہمارے ملک کے لائف انشورنس سیلز پر سنز کی ایک بڑی تعداد اس کتاب سے استفادہ کرے گی۔
ادارہ بُک کارنر جو کہ ہر موضوع پر معیاری کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے اور ادارہ کی علم دوست انتظامیہ کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی کہ اپنے قارئین تک معیاری کتب کم قیمت پر فراہم کی جائیں۔ میں ادارہ بُک کارنر کی ترقی اور مزید کامیابیوں کے لیے دلی طور پر دُعا کرتا ہوں۔
(سیّد اشرف حسین رضوی)

RELATED BOOKS