MIDDLEMARCH (URDU) مڈل مارچ (اردو)
PKR: 4,000/- 2,800/-
Author: GEORGE ELIOT
Translator: YAQOOB YAWAR
Binding: hardback
Pages: 856
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-716-6
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL WORLDWIDE CLASSICS TRANSLATIONS BRITISH LITERATURE
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 25 September 2026
’’لوگ عموماً اُس سے بہتر ہوتے ہیں جتنا اُن کے پڑوسی اُنھیں سمجھتے ہیں۔‘‘
یہ ’’مڈل مارچ‘‘ کا مرکزی خیال ہے۔ جارج ایلیٹ کا یہ عظیم ناول ان کا سب سے بلند پایہ تخلیقی کارنامہ ہے، جس میں ایک صوبائی معاشرے کی متنوع زندگی، تغیر آمادہ حالات اور انسانی تقدیر کی نہایت فن کارانہ اور مؤثر عکاسی کی گئی ہے۔ اس ناول میں ڈوروتھیا بروک ایک ایسی نوجوان مثالیت پسند لڑکی ہے جو اپنی ذہنی اور فکری تسکین کے لیے ایک معمر عالم و مفکر کاسابون سے شادی کر لیتی ہے، جو اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ دوسری طرف خوش مزاج مگر بے تکلف اور غیر محتاط ڈاکٹر لڈگیٹ ہے، جس کی حسین لیکن فضول خرچ بیوی روزامَنڈ اس کے پیشہ ورانہ مستقبل کو مسلسل خطرے میں ڈالے رہتی ہے۔ اسی معاشرے میں بالسٹروڈ بھی موجود ہے، جو مذہبی پارسائی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، مگر اپنے ماضی کے سنگین جرائم اور رسوائیوں کو چھپائے بیٹھا ہے۔
جوں جوں ان کرداروں کی کہانیاں ایک دوسرے میں مدغم ہوتی ہیں، جارج ایلیٹ ایک نہایت باریک، عمیق اور دل گداز ڈراما تخلیق کرتی ہیں، جسے ورجینیا وولف نے ’’ان چند انگریزی ناولوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا جو ’’بالغ لوگوں کے لیے لکھے گئے ہیں۔‘‘
---
جارج ایلیٹ، میری این (میرین) ایونز کا قلمی نام ہے۔ ان کی پیدائش 1819ء میں وارک شائر میں ہوئی۔ میرین نے سولہ برس کی عمر میں، والدہ کے انتقال کے بعد، اپنی رسمی تعلیم ترک کر دی تاکہ گھر کی دیکھ بھال کر سکیں۔ کچھ عرصہ بعد انھوں نے ذاتی مطالعے اور اپنے طور پر علم کے حصول کا سلسلہ شروع کیا، جس میں لاطینی، یونانی اور فلسفہ بھی شامل تھے۔
جب وہ اپنے والد کے ساتھ کوونٹری منتقل ہوئیں تو وہاں ان کی دوستی دو مقامی افراد چارلس اور کیرولین برے سے ہوئی۔ انھوں نے میرین کو رابرٹ اووین اور ہیرئیٹ مارٹینو جیسے ترقی پسند مفکرین سے متعارف کرایا، جنھوں نے اسے مذہب کے نسبتاً آزاد اور وسیع تر تصورات سے روشناس کرایا۔
ان کی پہلی اہم ادبی کاوش اسٹراس کی کتاب ’’لائف آف جیسَس‘‘ کا انگریزی ترجمہ تھی، جو 1846ء میں شائع ہوئی۔ یہ ترجمہ ایک بنیاد پرست ناشر جان چَیپ مین کی فرمائش پر کیا گیا تھا۔ 1851ء میں جب چَیپ مین ویسٹ منسٹر ریویو کے مالک اور مدیر بنے تو انھوں نے میرین کو لندن آنے اور رسالے کی منتظم مدیر کی حیثیت سے کام کرنے کی دعوت دی۔ انیسویں صدی میں کسی بڑے ادبی جریدے میں ایک عورت کا اس نوعیت کا منصب سنبھالنا ایک غیر معمولی بات تھی۔
ناول کو اعلیٰ درجے کے فن کے طور پر دیکھتے ہوئے، میرین نے فکشن کی طرف قدم بڑھایا۔ اس سلسلے میں انھیں جارج ہنری لیوس کی حوصلہ افزائی حاصل ہوئی، جو ایک ہمہ جہت دانش ور تھے۔ اگرچہ لیوس پہلے ہی شادی شدہ تھے اور اپنی ازدواجی زندگی ختم کرنے کے لیے قانونی طور پر طلاق نہیں لے سکتے تھے، پھر بھی میرین ان کے ساتھ علانیہ رہنے لگیں۔ 1878ء میں لیوس کی وفات تک دونوں ساتھ ساتھ رہے۔
جارج ایلیٹ کے نام سے انھوں نے اپنی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سینز آف کلیریکل لائف‘‘ (1858ء) اور اپنا پہلا مکمل ناول ’’ایڈم بیڈے‘‘ (1859ء) شائع کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے بے شمار تبصرے، مضامین اور مقالے بھی سپردِ قلم کیے اور مزید چھ ناول ’’دی مل آن دی فلاس‘‘ (1860ء)، ’’سیلاس مارنر‘‘ (1861ء)، ’’رومولا‘‘ (1863ء)، ’’فیلس ہالٹ‘‘ (1866ء)، ’’مڈل مارچ‘‘ (1871ء) اور ’’ڈینیئل ڈیرونڈا‘‘ (1876ء) تخلیق کیے۔
ایک مختصر ازدواجی زندگی کے بعد 1880ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے ایک پرانے دوست جے ڈبلیو کراس اُس وقت ان کے شوہر تھے۔ کراس نے بعد میں ان کی سوانح عمری بھی لکھی۔ جارج ایلیٹ کو لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں جارج ہنری لیوس کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
---
1872–1871 — پہلی اشاعت: ’’مڈل مارچ: اے سٹڈی آف پراوِنشل لائف‘‘ برطانوی مصنفہ جارج ایلیٹ کا ناول ہے۔ ناول کی طوالت کے پیشِ نظر جارج ایلیٹ اور جارج ہنری لیوس نے ناشر جان بلیک وڈ کے سامنے اسے روایتی جلدوں کے بجائے آٹھ الگ کتابی حصوں میں شائع کرنے کی تجویز رکھی۔ لہٰذا ایڈنبرا اور لندن کے معروف ناشر ’’ولیم بلیک وڈ اینڈ سنز‘‘ نے پہلا حصہ دسمبر 1871ء میں شائع کیا۔ بعد کے حصے فروری، اپریل، جون، اگست، اکتوبر، نومبر اور دسمبر 1872ء میں سامنے آئے۔ ہر حصہ پانچ شلنگ میں فروخت ہوتا تھا۔
1872 — پہلی مکمل کتابی اشاعت: آٹھواں اور آخری حصہ دسمبر 1872ء میں شائع ہوا۔ اسی مہینے ’’ولیم بلیک وڈ اینڈ سنز‘‘ نے آٹھ حصوں میں شائع ہونے والے ناول کو پہلی بار یکجا کرکے چار جلدوں پر مشتمل مکمل کتابی ایڈیشن کی صورت میں بھی شائع کیا۔
1874 — یک جلدی ایڈیشن: مئی 1874ء میں ناول کا نسبتاً کم قیمت پہلا یک جلدی ایڈیشن شائع ہوا، جو بے حد مقبول ثابت ہوا، اسی سال کے اختتام تک اس کی دس ہزار سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں۔
2026 — پہلا اُردو ترجمہ: جناب یعقوب یاور نے ’’مڈل مارچ‘‘ کو مکمل اُردو قالب میں ڈھالا۔ وہ اس سے قبل نجیب محفوظ کی شاہکار ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ کا بھی اُردو ترجمہ کر چکے ہیں۔
2026 — پاکستان میں بک کارنر نے ’’مڈل مارچ‘‘ کو اپنی ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔ اردو زبان میں اس کلاسیکی ناول کی یہ پہلی مکمل اشاعت ہے۔
---
یقیناً یہ انگریزی کا سب سے عظیم ناول ہے۔
— مارٹن ایمس، برطانوی ناول نگار
میں جانتی ہوں کہ ’’مڈل مارچ‘‘ آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ میں سمجھتی ہوں، اس کے باوجود، یہ سماج اور معاشرت پر لکھا جانے والا انگریزی کا انتہائی دلکش ناول ہے۔ جارج ایلیٹ زندۂ جاوید رہیں گی۔
— مِن جِن لی، کوریائی نژاد امریکی ناول نگار
مڈل مارچ ایک شاندار کتاب ہے، جو اپنی تمام ناہمواریوں کے باوجود ان چند انگریزی ناولوں میں سے ایک ہے جو بالغ لوگوں کے لیے لکھے گئے ہیں۔
— ورجینیا وولف، برطانوی ناول نگار
انگریزی ناولوں میں سب سے زیادہ گہرا، دانائی سے بھرپور اور مسحور کن ناول... اور سب سے بڑھ کرانسانی رویوں کے بارے میں سچا۔
— ہرمایونی لی، برطانوی نقاد
اپنے موضوعاتی دائرۂ کار کی وسعت، اپنے فکری استحکام اور اپنے بیانیے کی پُرسکون کشادگی کے اعتبار سے کوئی بھی وکٹورین ناول ’’مڈل مارچ‘‘ کا مقابلہ نہیں کرتا۔ مجھے شک ہے کہ کسی اور وکٹورین ناول نگار کے پاس جدید ناول نگاروں کو سکھانے کے لیے جارج ایلیٹ جتنا کچھ ہے... کسی بھی ادیب نے اخلاقی انتخاب کی پیچیدگیوں اور ابہامات کو اتنی مکمل صورت میں پیش نہیں کیا۔
— وی ایس پرچیٹ، برطانوی ادیب
’’مڈل مارچ‘‘ غالباً انگریزی زبان کا عظیم ترین ناول ہے۔
— جولیئن بارنز، برطانوی ناول نگار
یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ مڈل مارچ انگریزی کا سب سے عظیم ناول ہے۔
— اے ایس بائٹ، برطانوی ناول نگار
غصے سے بھرے اور انٹرنیٹ کے خمار میں مبتلا زمانے میں شاید اس سے زیادہ باوقار اور اجتماعیت کو تقویت دینے والی کوئی تخلیق نہیں کہ قارئین کے ایک گروہ کے ساتھ دیہی انگلستان کے بارے میں انیسویں صدی کا ایک ضخیم ناول پڑھا جائے اور اس پر گفتگو کی جائے۔ ’’مڈل مارچ‘‘ آہستہ آہستہ پڑھنے والے بُک کلب کے لیے ایک بہترین انتخاب ہو گا۔ آپ اس کے دل چسپ کرداروں کے مجموعے کو باریک بینی سے سمجھنے اور پرکھنے کے لیے اپنا وقت صرف کرنا چاہیں گے۔ مخلص اور تلخ مزاج، شیخی بگھارنے والے اور نرم دل کردار۔ اپنے ہمہ دان راوی کی دانا اور پُرسکون بصیرت کے ذریعے ایلیٹ ان زندگیوں کی مکمل پیچیدگی کو ہمارے سامنے رکھتی ہیں، اور فکشن کے جادو سے ہماری اپنی زندگیوں کی پیچیدگی کو بھی۔ اس ناول کے تقریباً ہر صفحے پر دانائی کا ایک دھماکا موجود ہے۔
— لاس اینجلس ٹائمز، ’’ہر قسم کے قاری کے لیے بُک کلب کے 101 بہترین انتخاب‘‘
