Hikayaat e Saadi - Buy Online | Book Corner

HIKAYAAT E SAADI حکایات سعدی

Inside the book
HIKAYAAT E SAADI

PKR:   1,500/- 750/-

Author: SHEIKH SADI SHIRAZI
Translator: MUHAMMAD MAGHFOOR UL HAQ
Binding: hardback
Pages: 322
ISBN: 978-969-662-252-9
Categories: ISLAM CHARACTER BUILDING CHILDREN PERSIAN LITERATURE WORLDWIDE CLASSICS TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
★★★★★
★★★★★

شیخ سعدی کی تصانیف میں جو شہرت ’’گلستان‘‘ اور ’’بوستان‘‘ کو حاصل ہوئی ہے وہ فارسی زبان میں لکھی جانے والی چند کتابوں کا ہی مقدّر بن سکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’گلستان‘‘ اور ’’بوستان‘‘ مقبولیت اور شہرت کے علاوہ اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے اتنی اہم ہیں کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسری کتاب پر ترجیح دینا خاصا کٹھن کام ہے لیکن چند ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ’’گلستان‘‘ کو ’’بوستان‘‘ پر فوقیت حاصل ہے۔ ایک تو خود شیخ سعدی کو ’’گلستان‘‘ بےحد عزیز تھی اور اس پر انھیں بجا طور پر ناز بھی تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ فارسی زبان کی شاعری میں ’’بوستان‘‘ سے پہلے بھی ایسی عظیم شعری تخلیقات وجود میں آچکی تھیں جن کی اپنی اہمیت اور شہرت ہے۔
’’گلستان‘‘ سادہ اخلاقی حکایتوں پر مبنی ہے لیکن ان اخلاقی حکایات میں معنی کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔ ان حکایات کا جو براہ راست تعلق عوام سے بنتا ہے وہ اس کتاب کی روح ہے۔ یوں تو اس سے ہر عمر اور ہر مزاج کا آدمی مستفید ہوا ہے لیکن ان حکایات میں جو ایک خاص تخاطب اور اپروچ ہے وہ اس کا طرئہ امتیاز ہے، وہ عام انسانوں کے دِلوں کو چھو لیتی ہے۔ ’’گلستان‘‘ نثر میں اخلاقی حکایات کی سب سے عظیم کتاب ہے لیکن شیخ سعدی نے اخلاقیات کا درس جس مؤثر اور دل نشیں انداز میں دیا ہے وہ دِلوں پر بوجھ نہیں ڈالتا نہ ہی وہ وعظ کا رنگ اختیارکرتا ہے۔
لگ بھگ سات سو برس سے ’’گلستان‘‘ اور ’’بوستان‘‘ دُنیا بھر میں پڑھی جا رہی ہے۔ ایران اور برصغیر پاک و ہند میں صدیوں سے اسے ابتدائی تعلیم کا جزو بنایا گیا۔ اب بھی اس کی یہی اہمیت برقرار ہے۔’’بوستان‘‘ کے مقابلے میں ’’گلستان‘‘ کے تراجم دُنیا کی زیادہ زبانوں میں ہوئے اور بار بار ہوئے۔ مولانا حالیؔ ’’حیاتِ سعدی‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’گلستان‘‘ کی عظمت اور بزرگی زیادہ تر اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ جس قدر غیرزبانوں کا لباس اس کتاب کو پہنایا گیا ہے ایسا فارسی زبان کی کسی کتاب کو نصیب نہیں ہوا۔ ‘‘
(ستار طاہر) ’’دنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘ سے ماخوذ

---

ایک مومن کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور اپنے اعمال کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خاص کر لیتا ہے اور اللہ کے سوا جس کی عبادت ہو رہی ہو اس کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ دوسروں کو بھی اس عمل کی تقلید کی ہدایت کرتا ہے۔ شیخ شرف الدین مصلح سعدی شیرازی کا نام نامی آج سے نہیں برس ہا برس سے دِلوں میں زندہ تابندہ ہے۔ اُنہوں نے نثر و نظم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی۔ آپ کی تصانیف کا جائزہ لیا جائے تو گلستان اور بوستان جیسی گراں قدر کتب فصاحت اور بلاغت کا مرقع ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ نہ صرف فارسی ادب کے لعل و گوہر بلکہ بنی نوع انسان کے لئے پند و نصائح کا علمی خزانہ ہے۔ اسی لئے ان کی کتابوں کے تراجم دُنیا بھر کی بہت سی زبانوں میں ہوچکے ہیں اور اُنہیں قدر ومنزلت کی نگاہ سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ اخلاقی و دِینی تعلیمات میں ان کے پند و نصائح دِلوں پر جو اثرات مرتب کرتے ہیں، سیدھی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ یہ اِنہی کا طرّئہ امتیاز ہے کیونکہ اُنہوں نے جوبھی لکھا وہ حقیقت کی کسوٹی پر پرکھا۔ زندگی کے تجربات کا نچوڑ صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا۔ آج بھی پوری دُنیا میں ان کی کتب کو سراہا جاتا ہے اور پڑھا جاتا ہے۔ ان کو بطور مصنف ہی نہیں بلکہ ایک صوفی منش عالم کی حیثیت سے عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ ان کی مشہور و معروف کتاب گلستان کو سلیس اُردو ترجمہ کے ساتھ، بک کارنر کے ناشران نے شائع کیا ہے۔ کتاب کو آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کی ابتداء میں مزار حضرت شیخ سعدی بمقام شیراز (ایران) کی تصویر ہے۔ مزار کا اندرونی منظر بھی ساتھ ہی دیا گیا ہے۔ اس کے بعد دو سو پچاس سے زیادہ حکایات و واقعات ہیں۔ ہر حکایت کے ترجمے کے بعد ’’درسِ حیات‘‘ کے عنوان سے حکایت کے لب لباب کو واضح کیا گیا ہے، تاکہ ایک عام قاری کے لئے بھی سبق اُجاگر ہو جائے اور وہ خود اخلاقی اقدار پر کاربند ہو کر دوسروں کو بھی یہ سبق دے سکے۔ معاشرے میں ایک نئی تبدیلی آئے اور معاشرے کے افراد خصوصاً نوجوان طلبا اور طالبات ان اسباق سے مستفید ہو کر ان کی تعلیمات کو دوسروں کے سامنے بھی پیش کر سکیں۔ معاشرے میں اخلاقی اور دینی اعتبار سے بہتری آسکے۔ بہت سے ممالک میں تو شیخ سعدی کے اسباق بھی نصاب کی زینت بنائے گئے ہیں۔ اس کتاب کو ناشرین نے بہت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جلد مجلد ہے اور حسن طابع و کتابت سے آراستہ و پیراستہ۔ مترجم نے بھی پوری پوری کوشش کی ہے کہ کتاب کا حسن برقرار رہے اور ترجمے میں جھول نہ آنے پائے۔ حرفِ آخر میں حضرت شیخ سعدی نے خود کہا ’’میں نے کتاب ’’گلستان‘‘ لکھ دی ہے۔ یہ کام اللہ تعالیٰ کی مدد سے مکمل ہوا۔ اس سارے کام میں اس کا فضل و رحمت شاملِ حال رہا۔ میں نے بھی شاعروں کی طرح نثری مجموعہ میں اشعار لکھے ہیں جیسا کہ اپنی گدڑی کو پیوند لگا کر سنوار لینا بہتر ہے، بہ نسبت اسکے کہ گدائوں سے کپڑے مانگے جائیں۔ میری کئی باتیں بڑی خوشی کا سامان ہیں اور پُرمذاق بھی۔ کئی لوگ مجھ پر طعنہ زنی بھی کریں گے لیکن عقلمندوں کے نزدیک چراغ کے دُھویں کو بیکار کہنا بیکار ہے۔ صاحبِ دل اور روشن ضمیر لوگ اسے بیکار نہ گردانیں گے۔ میری باتیں عام باتیں نہیں۔‘‘ (صغیرہ بانو شیریں)

Reviews

S

syed kashif bukhari (lahore)


RELATED BOOKS