GYNAE FEMINISM | 4 BOOKS SET | ZINDAGI SE DARTE HO, V: VAKHRI KITAB, RAHEM PE RAHM, DUFI DUFI DUFI گائنی فیمن ازم | چار کتابوں کا مجموعہ | زندگی سے ڈرتے ہو، وی وکھری کتاب، رحم پہ رحم، دفعی دفعی دفعی
PKR: 5,000/- 3,500/-
Author: TAHIRA KAZMI
Binding: hardback
Pages: 856
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-676-3
Categories: HEALTH & FITNESS MEDICAL FEMINISM CRITICAL THINKING NONFICTION GENDER STUDIES
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 15 April 2026
◼️ ایک پیش رو، ڈاکٹر طاہرہ خاموشی، منافقت اور ظلم کو توڑ رہی ہیں، اور یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ (زبیدہ مصطفی)
◼️ ہم سب مرحوم شوکت علی کاظمی کے ممنونِ احسان ہیں جنھوں نے طاہرہ جیسی سرشور بیٹی اس سماج کو دی۔ (زاہدہ حنا )
◼️ طاہرہ کاظمی نے اپنے کالموں میں، عورتوں کے حق میں آواز اُٹھاتے ہوئے، مردانہ برتری کے علم بردار معاشروں کی چیرپھاڑ کرنے میں کمی نہیں چھوڑی۔ (محمد سلیم الرحمٰن)
◼️ وہ کہتی ہے ’’میں فیمینسٹ نہیں ہوں‘‘، اسے ظاہری سلوگنز سے نفرت ہے، وہ اندر سے سچی اور زبان سے کڑوی عورت ہے۔ (کشور ناہید)
◼️ طاہرہ بیدار ذہن، نڈر اور بےباک لکھاری ہیں تلخ باتیں کہنے کا ہنر انھیں آتا ہے۔ (افتخار عارف)
◼️ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی عورتوں کی جسمانی تکالیف کا مداوا یا علاج ہی نہیں کرتیں بلکہ بہت ہی لطیف اور ہنر مندانہ انداز میں کاؤنسلنگ کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ (خالد جاوید)
◼️ ہمیں ایک طاہرہ کاظمی نہیں طاہرہ کاظمی ازم کی ضرورت ہے۔ (انور سن رائے)
◼️ اکیسویں صدی میں اُردو زبان طاہرہ کاظمی کی احسان مند رہے گی کہ انھوں نے صنفی امتیاز کی ناانصافی کی مخالفت میں احتجاج کی تپش کو اُردو کا قالب بخشا۔ (وجاہت مسعود)
📕زندگی سے ڈرتے ہو
ماضی میں اگر ان موضوعات کو شرم و حیا کے غلیظ پردوں میں لپیٹ کر عورت کی زندگی کو اہم نہیں جانا گیا تو کیا ضروری ہے کہ اکیسویں صدی کی عورت بھی غاروں اور جنگلوں میں رہنے والوں کی سی زندگی بسر کرے۔ جسم کو سمجھنا اور اس کے متعلق بات کرنا بنیادی انسانی حق ہے۔
📘وِی: وَکھری کتاب
سوچیے ایسی عورت معاشرے کو کیا دے سکتی ہے جو اپنے جسم کے ایک اہم عضو کا نام تک نہیں لے سکتی اور تکالیف دور کرنے کے لیے سینہ بہ سینہ چلتے ہوئے ان ٹوٹکوں کا سہارا لیتی ہے جو ماؤں اور نانیوں دادیوں کی سرگوشیوں کی صورت اس تک پہنچتے ہیں۔
📕رحم پہ رحم
عورت اکائی ہے اور کوئی بھی معاشرہ اور ادب اس وقت تک ثمر آور نہیں ہو سکتا جب تک اس کی بنت اور بنے گئے الفاظ اس اکائی کے گرد نہ گھومتے ہوں۔ عورت کا دکھ سکھ، کرب و آگہی، مسائل و تکالیف جہالت کے پردے ہٹا کر زندگی کے سٹیج پر لے آنا ہی اصل ادب ہے اور ادیب کو حیاتِ جاوداں تب ہی نصیب ہوتی ہے جب وہ اپنے الفاظ کو ہچکچاہٹ، انا، جھوٹی شرم و حیا اور مصنوعی اقدار و روایات کے نقاب نہ پہنائے۔
📙دفعی دفعی دفعی
درد جسم اور اعضا سے اُٹھتا ہو یا دل کے نہاں خانوں میں دوڑتا ہو یا روح کے پوشیدہ احساس سے جنم لیتا ہو ، عورت سراپا درد ہے جسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ایسی آنکھ اور ایسا دل چاہیے جو اسے اپنے جیسا سمجھے، اپنے جیسا انسان!
