Chehra ba-Chehra Roo ba-Roo

CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO چہرہ بچہرہ روبرو

CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO

PKR:   950/- 665/-

Author: JAMILA HASHMI
Binding: hardback
Pages: 143
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-700-5
Categories: PERSIAN LITERATURE NOVEL URDU CLASSICS
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

جمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔

جمیلہ ہاشمی کا ناول ’’چہرہ بچہرہ روبرو‘‘ محض نفسیاتی یا معاشرتی ناول نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سوانحی ناول ہے جس کا مرکزی کردار قرۃ العین طاہرہ/ام سلمیٰ( فاطمہ زرّیں تاج) ہے، ایران کی بابی تحریک سے وابستہ ایک غیر معمولی شخصیت؛ جو رویا میں آنے والے زمانے کے کسی طاقت کے سر چشمے کی تاہنگ میں تھی۔ کربلا کی تمثیل سے آغاز پانے والے اور شہدائے کربلا کے غم میں رچے بسے بیانیے کے اس ناول میں مصنفہ نے انیسویں صدی کے ایرانی معاشرے، مذہبی تحریکوں اور ایک غیر معمولی عورت کی فکری و روحانی جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔ ایک ایسی غیر معمولی عورت جو اپنے علم، فصاحت، شاعرانہ صلاحیت اور فکری آزادی کے باعث اپنے عہد کی روایتی عورتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھی جہاں عورت کی علمی اور سماجی آزادی محدود تھی، مگر اپنے غیر معمولی علم و شعور کے باعث روایت کے بنائے ہوئے حصار کو توڑنے کی کوشش میں رہی اور ناول میں محض ایک تاریخی کردار کی بجائے حق کی تلاش، فکری آزادی اور روحانی اضطراب کی نمائندہ علامت ہو گئی۔ جمیلہ ہاشمی نے ناول میں قرۃ العین کی شاعری، خیالات اور روحانی بےقراری کو بڑی فنکاری سے پیش کیا ہے۔ مصنفہ نے ایران کے متوسط طبقے کی معاشرت، مذہبی فضا، رسم و رواج اور سیاسی حالات کو کہانی میں سمو دیا ہے۔ تاریخ یہاں محض پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی تشکیل اور واقعات کی معنویت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے شاعرانہ اور علامتی اسلوب ، کرداروں کی داخلی کیفیات، مکالموں کی فکری گہرائی اورجزیات کے ساتھ منظرنگاری نےناول کو تخلیقی وقار عطا کیا ہے۔ خصوصاً قرۃ العین طاہرہ کے کردار کے ذریعے عورت کی فکری خود مختاری اور سماجی جبر کے خلاف مزاحمت کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول اُردو کے اہم تاریخی اور فکری ناولوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔
(محمد حمید شاہد)

قرۃ الـــــعـــــین طــــاہــــرہ۔ جنابِ طاہرہ۔ زرّیں تاج۔ اُمِ سلمٰی۔ قزوین کی شاعرہ۔ وہ جو اپنے جمالِ خاص کی وجہ سے بھی معروف تھی۔ ایک عارفہ۔ بابی مذہبی تحریک کا ایک کلیدی کردار۔ عورتوں کے حقوق کی بےباک علمبردار۔ ایک واعظہ۔ ایک باحثہ۔ ایک عالمہ۔ حق اور سچ کی پُرشوق متلاشی۔ سوز اور غنائیت سے لبریز کلام کہنے والی۔ خالقِ کائنات سے چہرہ بچہرہ رو برو ہونے کے لیے ہر لمحہ مضطرب۔ ہر ساعت مشتاق۔ تخلیق کے ہوشربا رازوں سے پردہ اٹھانے کی شدّت سے خواہش مند۔ جاوید نامہ میں غالب اور حلّاج کے شانہ بشانہ۔ رومی اور اقبال سے فلکِ مشتری میں تصوّف کے ارفع معاملات پہ مکالمہ کرنے والی۔ سفرِ مدام سفر کا رستہ چننے والی۔ وہ جس کی نوائے طاہرہ نے عشقِ حقیقی کے رازدان اقبال کے دل پر انتہائی گہرا اثر چھوڑا۔ ایسے بلند روحانی مرتبے کے باوجود انیسویں صدی کے فارس میں بسنے والی یہ عظیم ہستی اسرار اور نسیان کے دھندلکوں میں کھو چکی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کی یہ دل کو موہ لینے والی تحریر اس غیرمعمولی شخصیت، اس کے ہنگامہ خیز زمانے اور اس کی نہایت کٹھن فکری اور روحانی سرگزشت کی عمیق جستجو بھی ہے اور دل گداز روئیداد بھی۔ اور اپنائیت، عقیدت اور محبت میں گُندھا ہوا خراجِ عقیدت بھی۔ جمیلہ ہاشمی نے جس مہارت اور عمدگی سے تاریخ کے اس پیچیدہ اور نت نئی مذہبی تعبیرات، تحریکوں، فتنوں اور فسادات سے بھرپور دور اور قرۃ العین طاہرہ کے جذباتی، روحانی اور مابعد الطبیعیاتی مخمصوں، دبدھاؤں، وسوسوں اور اذیتوں کا احاطہ کیا ہے وہ انھی کا کمال ہے۔ طاہرہ جس بے مثال سوز، حزن اور انتہائے عشق کے اظہار کی بابت زندہ جاوید ہیں وہ کیفیت، شدّت اور جذبہ جمیلہ ہاشمی کی نثر میں سرایت کر کے اسے بھی آنے والے وقتوں کے لیے یادگار بنا دیتا ہے۔ اُردو ادب کے اس جوہرِ بیش بہا کی دل کش اشاعتِ نو اتنی ہی خوش آئند ہے جیسے کسی پُرمسرت بشارت کا ظہور۔
(اسامہ صدیق)

روہی، چہرہ بچہرہ رو برو، دشتِ سوس کی دنیا فنی لحاظ سے تلاشِ بہاراں، آتشِ رفتہ، آپ بیتی جگ بیتی اور اپنا اپنا جہنم سے مختلف دنیا ہے۔ آتشِ رفتہ، تلاشِ بہاراں، اپنا اپنا جہنم، آپ بیتی جگ بیتی کی دنیا برصغیر ہی کے لوکیل (Locale) سے تعلّق رکھتی ہیں۔ روہی سے چہرہ بچہرہ رو برو، ہر چند کہ نئی کہانی ہے، نئی تاریخ ہے، نئی لینڈ سکیپ ہے لیکن روہی میں جس زندگی کی تڑپ ہے وہ قرۃ العین طاہرہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔
(محمد علی صدیقی)

’’چہرہ بچہرہ رو برو‘‘ اس طور اُردو کے بڑے تاریخی ناولوں سے الگ ہے کہ ان میں عموماً ناول نگار ایک وسیع کائنات میں کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ تاریخ کس طرح انسانوں کی اٹل تقدیر بن گئی ہے۔ یہاں جمیلہ ہاشمی نے ایک جہت کا اضافہ یہ کیا کہ کردار کے داخل سے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ موجود تاریخ کس طرح ایک شخصیت کی تعمیر میں شامل ہوتی ہے اور پھر کیسے اس کی کیمیاوی ہیئت بدل جاتی ہے اور ایک انسانی میڈیم سے گزرنے کے بعد اس کی ساخت کیا ہوتی ہے۔ اس سارے عمل کے مطالعے کے لیے بہت چھوٹی چھوٹی لکیروں سے منظر بنائے گئے ہیں، مرتکز اور تاثر کے نقطے خلق کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب کردار اور تاریخ کے رشتے کے مطالعے کی حیثیت سے تو خیر بہت اہم ہے ہی، اُردو ناولٹ کی رَو میں ایک منفرد اضافہ بھی ہے اور خود جمیلہ ہاشمی کے ہاں فن کی ایک نئی اور انوکھی سطح۔
(سراج منیر)

RELATED BOOKS