BEL AMI بیل آمی
BEL AMI بیل آمی
PKR: 1,500/- 1,050/-
Author: GUY DE MAUPASSANT
Translator: SHAUKAT NAWAZ NIAZI
Binding: hardback
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-694-7
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL WORLDWIDE CLASSICS TRANSLATIONS FRENCH LITERATURE
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 20 May 2026
موپاساں کو بہت کم وقت ملا، صرف 43 سال، اور اس کا ادبی سفر صرف دس برسوں پر محیط ہے۔ 1880ء سے 1890ء تک۔ ان دس برسوں میں اس نے چھ ناول لکھے اور 300 مختصر کہانیاں۔ اُس کا ایک ناول
’’بیل آمی‘‘ اُردو داں طبقے میں خاصا معروف ہے۔ اس ناول سے اس نے خوب پیسا کمایا۔ اس دولت سے شہر کے فیشن ایبل علاقے میں فلیٹ لیا۔ یہاں ایک گوشۂ راز و نیاز ترتیب دیا۔ محققین کے بہ قول اس گوشے میں پیرس کی خوش اندام خواتین کا اجتماع رہتا تھا۔
ایک کتاب کے دیباچے میں موپاساں نے ادبی ضابطے کی وضاحت کی ہے۔ اُس کے بیان کے مطابق، عام اور غیرڈرامائی واقعات کے لیے سادہ بیانی ہی بہتر طریق کار ہے۔ وہ سادہ لفظیات کا حامی ہے اور بیان کی زیبائش اور آرائش سے پرہیز کرتا ہے۔ موقع محل کی نسبت سے اُسے موزوں تر لفظ کے انتخاب میں ملکہ حاصل تھا۔ اُس کا کہنا ہے کہ لکھنے والے کو معروضی اور غیرجذباتی انداز اختیار کرنا چاہیے اور خود کو داخل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ موپاساں کا بیشتر کام اُداسی اور قنوطیت کی ایک فضا بناتا ہے۔ اُس کے کردار عموماً سطحی، لالچی، نکمّے، کمینے، شیخی خورے اور کنجوس ہیں۔ وہ خیر و شر کے فیصلے صادر نہیں کرتا۔ جس قماش کے وہ لوگ ہیں، اُن کے دُکھ سُکھ سب کچھ وہ جُوں کا تُوں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اُس نے کِسانوں اور تاجروں کی خاکہ کشی خُوب کی ہے اور وہ صرف انہی کرداروں تک محدود نہیں رہا ہے۔
موپاساں نے آخری دن بہت آزمائش میں گزارے۔ 34 سال کی عمر میں وہ اعصابی تناؤ کا مریض ہو گیا تھا۔ 1891ء میں اسے مکمّل جنون کی حالت میں پیرس کے شفاخانے میں داخل کر دیا گیا اور کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اِسی ذہنی اِختلال نے 6 جولائی 1893ء کو اُس کی جان لے لی۔ مگر یہ تو اس کی ظاہری دُوری تھی، وہ آج بھی ہمارے درمیان بہ تمام و کمال بہ ہمہ نفس موجود ہے۔ اِس سے بڑی زندگی اور کیا ہوتی ہے۔
(شکیل عادل زادہ)
RATE THIS BOOK
RELATED BOOKS
